طالبان ترجمان احسان اللہ احسان سیف ہاؤس سے فرار

وائس آف امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ پشاورآرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والا زیر حراست تحریک طالبان کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کو چکمہ دے کر اس سیف ھاوس سے فرار ہوگیا جہاں اسے پچھلے 33 مہینوں سے بغیر ٹرائل شروع کیے رکھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ احسان اللہ احسان نے 17 اپریل 2017 کے روز سکیورٹی اداروں کو گرفتاری پیش کردی تھی جس کے بعد وہ اپنی بیوی اور دو بچیوں سمیت ایک نامعلوم مقام پر واقع سیف ہاؤس میں زیر حراست زندگی گزار رہا تھا۔ وائس آف امریکہ کے مطابق احسان اللہ احسان کے پراسرار فرار کا واقعہ 12 جنوری 2020 کے روز پیش آیا، جب وہ رات کے اندھیرے میں سیف ہاؤس کی دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار کا پتہ چلتے ہی خفیہ اداروں نے خیبرپختونخوا میں واقع مہمند ڈسٹرکت کے سگی بالا گاؤں میں چھاپہ مار کر احسان اللہ کے والد شیر محمد، بھائی شفیق اور چچا شیر بادشاہ کو گرفتار کرلیا ہے تاکہ احسان کے ٹھکانے کا سراغ لگایا جا سکے تاہم خفیہ ادارے احسان اللہ، اس کی بیوی اور دو بیٹیوں کا سراغ لگانے میں ابھی تک ناکام ہیں۔
یاد رہے کہ سکیورٹی اداروں کو گرفتاری دینے کے بعد26 اپریل 2017 کواپنے اقبالی ویڈیو بیان میں احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کیلئے بھی کام کر رہا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نےگرفتاری کے بعد جیو ٹی وی کے اینکر سلیم صافی کو احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرنے کی خصوصی اجازت دی تھی جس کے دوران اس نے را سے اپنے تعلق کا انکشاف کیا تھا۔
حیرت انگیز طور پر آرمی پبلک سکول پشاور پرحملے میں 135 سے زائد معصوم بچوں اور اساتذہ کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کا ٹرائل کرنے کی بجائے اس کو ایک سیف ہاؤس میں باعزت طریقے سے ریاستی مہمان کی طرح رکھا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اپریل 2017 میں احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا تھا جس کا اعلان افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 17 اپریل 2017 کو کیا تھا۔
16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے اندر قتل عام کرتے ہوئے سکول کے طلبا اور پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150 افراد کو شہید کردیا تھا۔ سانحہ اے پی ایس کے فوراً بعد احسان اللہ احسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کا مقصد طالبان دشمنوں کی اگلی نسل کو جہنم واصل کرنا تھا جس میں ہم کامیاب رہے۔
احسان اللہ حسان کی گرفتاری کے بعد سیکیورٹی اداروں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس کا کورٹ مارشل کیا جائے گا اور جلد از جلد نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ تاہم بعد میں یہ اطلاعات آئیں کہ سکیورٹی اداروں نے احسان اللہ احسان کے وعدہ معاف گواہ بننے پر اس کی جان بخشی کر دی ہے۔ ان افواہوں کو تقویت تب ملی جب احسان اللہ احسان کی مبینہ جان بخشی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس کی آخری سماعت 21 اپریل 2018 کو ہوئی۔ دوران سماعت سیکیورٹی اداروں نے موقف اختیار کیا کہ احسان اللہ احسان سے ابھی تک تفتیش جاری ہے جس کے مکمل ہونے پر اسے فوجی عدالت میں ٹرائل کیلئے پیش کردیا جائے گا۔ تاہم احسان اللہ احسان کی گرفتاری کے 33 ماہ بعد بھی نہ تو اس سے تفتیش مکمل ہو سکی اور نہ ہی اس کا ٹرائل شروع کیا گیا۔ اور پھر 12 جنوری 2020 کی رات وہ یا تو فرار ہوگیا یا اسے فرار کروا دیا گیا۔ یاد رہے کہ میجر جنرل آصف غفور نے 17اپریل 2017 کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ بعدازاں پاک فوج نے احسان اللہ احسان کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں اس نے ٹی ٹی پی کے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغانستان کی ’این ڈی ایس‘ سے روابط کا انکشاف کرنے کے علاوہ یہ بھی بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم اسرائیل سے بھی مدد لینے کے لیے تیارتھی۔
مہمند ایجنسی کا رہنے والا یہ درندہ جو طالبان اور جماعت الحرار کا ترجمان تھا اس کا اصل نام لیاقت علی ہے لیکن دہشتگردوں کی دنیا میں یہ ’’احسان اللہ احسان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق پشاور سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا احسان اللہ احسان واقعی بھاگا ہے یا اس کو بھگایا گیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close