گندم برآمد کرکے اب درآمد کرنا معنی خیز ہے

وفاقی وزیر بحری امور اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی حیدر زیدی نے گندم کی برآمد اور پھر درآمد کرنے کے حکومتی فیصلے پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم درآمد ایک اسکینڈل ہے یا نہیں لیکن اس معاملے پر سوالیہ نشان ضرور ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور اعلی زیدی کا کہناہے کہ گزشتہ برس اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گندم وافر مقدار میں موجود ہے جسے برآمد کر دینا چاہے اور اس طرح 4 لاکھ ٹن گندم برآمد کردی گئی، پھر پابندی لگادی گئی اور اکتوبر میں دوبارہ گندم کی برآمد شروع ہوگئی اور اب ملک میں آٹے کے بحران پر درآمد کی جارہی ہے۔
نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گندم درآمد کرنے کے تمام امور میں 35 سے 40 دن لگیں گے تب تک پاکستان میں گندم کی کٹائی شروع ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) نے برآمد اور درآمد کی جانے والی گندم کا تمام ڈیٹا فراہم کردیا ہے جس کے بعد نتائج کا حصول ممکن ہوگا’۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ای سی سی کے اجلاس میں میرا پہلا سوال تھا کہ گندم برآمد کرنے سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے پر ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے اور انہیں احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ گندم کی پہلے برآمد اور اب درآمد کوئی بڑا اسکینڈل ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ اسکینڈل ہے یا نہیں لیکن سوال ضرور ہے۔ علی زیدی نے اپنے بے باک اظہار پر صبح تک وزارت سے فارغ کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں وزارت سے استعفیٰ نہیں دوں گا لیکن مجھے ڈی نوٹیفائی کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں آٹے کے بحران اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گزشتہ روز بغیر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 3 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی اجازت دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close