چیئرمین کی ممبران سینٹ کی تعداد نہ بدلنے کی تجویز

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے قائمہ کمیٹی برائے قانون کو خط کے ذریعے تجویز دی ہے کہ سینیٹ ارکان کی تعداد 104 ارکان تک ہی محدود رکھی جائے، انہوں نے کہا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد سینیٹ ارکان کی تعداد 96 ہوجائے گی، فاٹا ارکان کو صوبوں میں تقسیم کردیا جائے۔
چیئرمین سینیٹ نے چیئرمین قائمہ کمیٹی قانون وانصاف جاوید عباسی کو خط ارسال کیا ہے کہ فاٹا سینیٹرزکی چاروں نشستیں صوبوں میں تقسیم کی جائیں، میری رائے ہے کہ سینیٹ کے ارکان کی تعداد 104 ہی رہنی چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون وانصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تجاویز کو زیرغور لایا جائے۔
پچیس ویں آئینی ترمیم میں فاٹا کے 8 سینیٹرز کی الیکشن سے متعلق شق کونکال دیا گیا تھا۔ آئینی ترمیم کے بعد سینیٹ ارکان کی تعداد 96 ہوجائے گی۔ 25 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا تھا کہ فاٹا سے سینیٹرز اپنی مدت پوری کریں گے۔ فاٹا سے 4 سینیٹرز کی مدت مارچ 2021ء کوختم ہوجائے گی۔
4 ممبرز کی مدت مارچ 2024ء میں ختم ہوجائے گی۔ چیئرمین سینیٹ نے تجویز دی ہے کہ سینیٹ کے ارکان کی تعداد 104 ہی رہنی چاہیے۔
فاٹا سے سینیٹرز کی نشستیں چاروں صوبوں میں تقسیم کردی جائیں۔ سینیٹ کے مارچ 2024ء کے الیکشن میں صوبوں کی مزید 4 نشستیں بڑھا دی جائیں۔ واضح رہے فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کے بعد فاٹا سینیٹرز کی سینیٹ میں تعداد کم ہوجائے گی۔ اس وقت سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے 16سینیٹرز، پیپلزپارٹی 19، تحریک انصاف 15، ایم کیوایم 5 اور 30 آزاد سینیٹرز ہیں، اسی طرح جماعت اسلامی، بی این پی ، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے سینیٹرز موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close