کپتان نے تخت پنجاب چوہدریوں کے حوالے کردیا

بالآخر وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بچانے کے لیے ق لیگ کی قیادت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کے تمام تر اختیارات ق لیگ کو سرنڈر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کردی گئی ہے کہ ق لیگ کو انتخابی حلقوں کے لیے 20ارب روپے کے فنڈز فوری جاری کروائے جائیں اور آئندہ صوبے کی بیوروکریسی براہِ راست چوہدری پرویز الہی اور ان کے صاحبزادے چوہدری مونس الہی سے ہدایات لے گی۔
تاہم معلوم ہوا ہے کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے مابین اتحاد بچانے کے لیے ہونے والی میٹنگ میں حکومتی اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا جو فارمولا طے ہوا ہے اس کے تحت فی الحال عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ کے طور پر برقراررکھا جائے گا لیکن پنجاب کے عملی حکمران چوہدری برادران ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ افواہیں گرم تھیں کہ قاف لیگ کی قیادت نے تحریک انصاف کی مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے مسلم لیگ نون کی مدد سے پنجاب کی حکومت بدلنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگلے سیٹ اپ میں چوہدری پرویز الہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہونگے۔ اسی دوران پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 20 اراکین پنجاب اسمبلی نے ایک علیحدہ گروپ بنانے کا اعلان بھی کردیا تھا جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ پنجاب میں چوہدری پرویز الہی کو اقتدار دلوانے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ یاد رہے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت کو صرف بارہ ووٹوں کی برتری حاصل ہے جس میں سے دس ووٹ قاف لیگ کے ہیں، لہذا اگر قاف لیگ یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے پنجاب حکومت کو گرانا ہے تو نون لیگ کی مدد سے وہ آسانی سے اپنا مقصد حاصل کر سکتی ہے۔
ان خبروں کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی کی قیادت میں قاف لیگ کے ایک وفد نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، پرویز خٹک، وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان سے ملاقات کی، جس میں جہانگیر ترین نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے عین مطابق یہ اعلان کیا کہ آئندہ عملی طور پر قاف لیگ وزارت اعلیٰ کے اختیارات انجوائے کرے گی۔ یہ معاملات وزیراعلی عثمان بزدار اور چیف سیکریٹری کی موجودگی میں طے پائے اور سردار عثمان بزدار کو اس موقع پر یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اپنے اختیارات مسلم لیگ قاف کو دینے کے عوض ان کی وزارت اعلیٰ برقرار رہے گی۔ لہٰذا اب یوں لگتا ہے کہ وقتی طور پر کپتان نے تخت پنجاب چوہدریوں کے حوالے کر کے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپنی حکومت بھی بچا لی ہے اور عثمان بزدار کی کرسی بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ قاف اس فارمولے سے مطمئن ہو پائے گی اور کیا کپتان بھی یہ انوکھا فارمولا ہضم کر پائیں گے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close