وزارت دفاع کرنل انعام رحیم کو جاسوس ثابت کرنے میں ناکام

وزارت دفاع نے جاسوسی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد 40 روز سے گرفتار کرنل (ر) انعام الرحیم کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ حکام کو دے دیں اور اپنے خلاف جاسوسی کے الزامات پر ہونے والی تحقیقات میں تعاون کریں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کرنل انعام کو لاہور ہائیکورٹ سے ملنے والی ضمانت سپریم کورٹ سے منسوخ کرواتے وقت وزارت دفاع نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کرنل انعام پاکستان کے جوہری پروگرام اور آئی ایس آئی کے حوالے سے حساس معلومات دشمن کو فراہم کر رہے تھے اور اس بات کا ثبوت ان کے لیپ ٹاپ سے ملا ہے۔ اب حیرت انگیز طور پر وزارت دفاع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ متعلقہ ایجنسیاں تو ابھی تک ان کا لیپ ٹاپ کھول ہی نہیں پائیں۔ لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے کے بدلے کرنل انعام کی مشروط رہائی کی پیشکش وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں 22 جنوری کے روز کی۔
یاد رہے کہ کرنل انعام کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں ضمانت منسوخ کرواتے وقت وزارت دفاع نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ 22 جنوری کے روز عدالت میں کرنل کے جاسوسی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش کرے گی۔
تاہم 22 جنوری کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کے وکیل انعام الرحیم کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت شروع کرتے ہوئے وزارت دفاع کے نمائندے سے ثبوت مانگے تو انہوں نے جوابا یہ پیشکش کی کہ اگر کرنل انعام اپنا پاسپورٹ جمع کروا دیں اور اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ ہمیں دے دیں تو ان کو مشروط رہائی مل سکتی ہے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم بیمار ہیں، انہیں بار بار اسپتال لے جانا پڑتا ہے، وہ اپنا پاسپورٹ جمع کرادیں اورراولپنڈی و اسلام آباد سے بھی باہر نہ جانے کے پابند ہو جائیں تو ان کو مشروط رہائی مل سکتی ہے لیکن اس کیلئے انعام الرحیم کو اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینا ہوگا اور تحقیقات میں بھی تعاون کرنا ہوگا۔
انعام الرحیم کے وکیل نے کہا کہ ہم پاسپورٹ جمع کرادیتے ہیں آپ انہیں چھوڑ دیں، انہوں نے کہا کہ ایک ماہ اور آٹھ دن سے انعام الرحیم حراست میں ہیں اور پچھلی سماعت میں یہ ان کو دشمن کا جاسوس قرار دے چکے ہیں اور ثبوت کے طور پر انہوں نے فرمایا تھا کہ کرنل صاحب کے لیپ ٹاپ سے خفیہ اور حساس معلومات ملی ہیں۔ انعام الرحیم کے وکیل نے کہا اب ان کا یہ کہنا ہے کہ انہیں انعام الرحیم کے لیپ ٹاپ کا پاسورڈ چاہیے۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ دراصل سچ کیا ہے۔
اس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دئیے کہ انعام الرحیم پاسپورٹ بھی جمع کرادیں، تحقیقات میں بھی تعاون کریں، لیکن وزارت دفاع ان کو رہا کرنے کا سوچے۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔
بعدازاں انعام رحیم کے وکیل نے کچھ گھنٹوں بعد پاسپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ۔ انعام رحیم کے وکیل شیخ احسن الدین کا کہنا تھا کہ اب بھی اگر کرنل انعام الرحیم کی رہائی عمل میں نہ لائی گئی تو پھر ایسی صورت میں وہ توہین عدالت کامقدمہ دائر کریں گے جبکہ انھیں آج کی کارروائی سے متعلق عدالتی فیصلے کا انتظار ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ سماعت پر موقف اختیار کیا تھا کہ کرنل انعام کو جاسوسی، حساس معلومات افشا کرنے اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ قبل ازیں سکیورٹی اداروں نے پہلے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی آواز بننے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی رہائی کے فیصلے پر عملدرآمد سے انکار کیا اور پھر کرنل انعام کو دشمن کا جاسوس قرار دے دیا گیا جس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ان کی رہائی کا ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔ دراصل کرنل انعام رحیم کا اصل جرم یہ ہے کہ انہوں نے آرمی چیف کے توسیع کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو پاکستان آرمی ایکٹ کی ایک کاپی فراہم کی تھی جس سے یہ انکشاف ہواتھا کہ اس ایکٹ میں تو آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ کرنل انعام کی گرفتاری کے فورا بعد وزارت دفاع نے ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا جو الزام لگایا تھا وہ دراصل آرمی ایکٹ کی کاپی چیف جسٹس کو فراہم کرنے کے حوالے سے تھا۔ بعد ازاں اس الزام کو کرنل انعام کی گرفتاری کا مناسب جواز نہ سمجھ کر ریاستی اداروں نے الزام کی نوعیت بدلتے ہوئے کرنل انعام کو دشمن کا ایجنٹ ڈکلیئر کر دیا جو ملک میں جاسوسی کا ایک بڑا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اب جب کرنل انعام الرحیم کے جاسوس ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں مل پایا تو وزارت دفاع نے ان کے پاسپورٹ اور لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ مانگتے ہوئے کرنل انعام کی مشروط رہائی کی پیشکش کردی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close