امریکہ نے سی پیک منصوبوں کی شفافیت پر سوال اٹھادیا

امریکہ نے پاکستان اور چین کے مابین سی پیک منصوبوں کی شفافیت پر دوبارہ سوال اتھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تکمیل کے لیے بلیک لسٹڈ اداروں سے معاہدے کئے گئے ہیں جبکہ چینی بینکوں کی فنانسنگ کی وجہ سے پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے بری طرح دبتا چلا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھی امریکہ نے اسی طرح کے الزامات لگائے تھے جس پر چین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ اب 21 جنوری کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں خطاب کے دوران امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں کنٹریکٹس ملے ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کے لیے چین سے فنانسنگ حاصل کرکے پاکستان مہنگے ترین قرضے حاصل کر رہا ہے اور خریدار ہونے کے ناطے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے کیونکہ اس سے ان کی پہلے سے کمزور معیشت پر بھاری بوجھ پڑے گا اور پاکستان معاشی طور پر پس کر رہ جائے گا۔
امریکی اہلکار نے ریلوے ایم ایل ون منصوبے کی لاگت میں بے پناہ اضافے پر بھی بات کی جو کراچی سے پشاور کو جوڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اتنے بڑے منصوبوں پر شفافیت دکھانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان کو اپنے مفاد کا سوچنا چاہیے نہ کے چائنا کے مفاد کا۔
امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کا یہ بیان 21 نومبر 2019 کو واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں دئیے گئے ریمارکس جیسا ہی تھا۔ تاہم اسلام آباد کے دورے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات بنانے پر زور کے بعد ان کا دوبارہ یہ الزامات دہرانا اہم ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود نے اس ملاقات میں امریکا سے پاکستان کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نام نکالنے میں مدد کرنے کا کہا تھا۔
دوسری جانب دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے ایلس ویلز سے ملاقات کی جس میں سیاسی روابط اور معاشی شراکت داری سمیت وسیع دوطرفہ امور پر بات چیت ہوئی۔
واضح رہے کہ ایلس ویلز دورہ بھارت اور سری لنکا کے بعد چار روزہ دورے پر دو روز قبل پاکستان پہنچی تھیں۔گزشتہ روز انہوں نے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ سے بھی ملاقات کی تھی جس میں سیکیورٹی اور داخلی امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close