تیونس: سابق وزیرخزانہ الیاس الفخفاح وزیراعظم مقرر

تیونس کے صدر قیس سعید نے کرتے ہوئے انہیں کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دیدی۔ نئے وزیراعظم الفخفاح کو ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے اور عوامی مطالبات کے اہم چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تیونس میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے وزارت عظمیٰ اور موجودہ وزیراعظم یوسف الشاھد کی جگہ نئے سربراہ حکومت کےلیے 20 نام پیش کیے تھے۔ گزشتہ روز صدر مملکت کی طرف سے ‘تحیا تیونس’ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار الفخفاح کو وزیراعظم نامزد کرتے ہوئے انہیں حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی تھی۔
حکومت کی تشکیل کےلیے نامزد وزیراعظم الفخفاح کے پاس ایک ماہ کی مہلت ہے۔ انہیں حکومت کی تشکیل کے بعد پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔ حکومت کو موجودہ پارلیمنٹ کے 217 ارکان میں سے کم سے کم 109 کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اگر حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ اس وقت تیونس کی پارلیمنٹ میں مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ اور قلب تیونس کی اکثریت ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو جہاں کئی داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہوگا وہیں موجودہ وزیراعظم یوسف الشاھد کی اقتصادی اصلاحات کوآگے بڑھانے اورنئی اصلاحات کےلیے غیرمعمولی سیاسی معاونت درکار ہوگی۔
نو منتخب وزیراعظم الیاس الفخفاخ انجینیرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں تعلیم یافتہ ہیں جب کہ انہوں نے فرانس کی اینسا یونیورسٹی سے میکینیکل انجینیرنگ کی ڈگری بھی لے رکھی ہے۔ انہوں نے سنہ 2006ء کے بعد ملک میں بڑی کاروباری کمپنیوں کے ساتھ اہم عہدوں پرکام کیا اور سنہ 2011ء کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں قدم رکھا۔ گزشتہ حکومت میں انہیں وزارت خزانہ کا قلم دان بھی سونپا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close