گھر کی رونق ماں کی ممتا کے بغیر ناممکن

ماں کی ممتا کے بغیر نہ صرف گھر خالی ہو جاتا ہے بلکہ انسان کی تکلیفیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ماں کی حیثیت گھر کے اس لازم جز کے طور پر ہوتی ہے جو غیر محسوس انداز میں گھر کے ہر فرد کی زندگی میں داخل ہوتی ہے ۔ ماں سے اپنے غصے اور ناراضگی کا اظہار ، اس کے پکائے کھانوں پر نکتہ چینی ہم سب ہر روز کرتے ہیں مگر ماں سے محبت کا اظہار سوشل میڈيا پر صرف مدر ڈے تک ہی محدود ہو چکا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اگر ایک دن کے لیے ماں گھر میں موجود نہ ہوں تو گھر کا سارا نظام تلپٹ ہو جاتا ہے۔ گھر میں والدہ کی عدم موجودگی کا سوچ کر ایک جذباتی دھچکا تو انسان کو لگتا ہی ہے لیکن آج ہم کو بتائیں گے کہ اگر ایک دن کیلئے ماں گھر میں نہ ہو تو ہمیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-
1: صبح الارم کے باوجود لیٹ ہو جائيں گے
ماں وہ واحد الارم ہوتا ہے جو کہ طے شدہ وقت سے پہلے ہی بجنا شروع کردیتا ہے- اگر سات بجے جاگنا ہو تو ماں ساڑھے چھ بجے ہی آٹھ بجنے کا اعلان کرنے لگتی ہیں جس کے سبب انسان کم از کم وقت پر جاگ جاتا ہے ۔ ماں کی غیر موجودگی میں سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اسکول ،کالج یہاں تک کہ دفتر کے لیے بھی لیٹ ہو سکتا ہے-
2: ناشتہ تیار نہیں ملتا
ماں کی غیر موجودگی میں اس بات کا فیصلہ کرنا ہی محال ہوتا ہے کہ کیا پہنا جائے اس کے ساتھ ساتھ ناشتے کی خالی ٹیبل منہ چڑا رہی ہوتی ہے کیوںکہ اس پر ناشتہ ندارد ہوتا ہے- صبح صبح جاگ کر خود چائے اور ناشتہ بنانے کا خیال ہی سوہان روح ہوتا ہے- اس وجہ سے اکثر لوگ خالی پیٹ ہی گھر سے نکل جاتے ہیں اور جو ناشتہ بنانے کی کوشش کرتے بھی ہیں ان کا ناشتہ یا تو کچا رہ جاتا ہے یا پھر جل کر کوئلہ ہو جاتا ہے –
3: دوپہر میں واپسی پر کوئي انتظار کرنے والا نہیں ہوتا
ماں کے اندر لگا کلاک ان کو بتاتا ہے کہ کس کے گھر واپسی کے اوقات کیا ہیں اور اس کو کھانے میں کیا پسند ہے یہ تمام تیاریاں وہ کر کے رکھتی ہے- ماں کی غیر موجودگی میں خود کھانا بنانا اور خود ہی اسے کھانا دو دشوار ترین عمل ہوتے ہیں اس لیۓ باہر کے کھانے کو ترجیح دی جاتی ہے جو بجٹ کو تلپٹ کر کے رکھ دیتا ہے-
4: دوپہر کا قیلولہ رات گئے تک چلتا ہے
ماں گھر کی وزیر اعظم ہونے کے ساتھ ساتھ ڈسپلن انچارج بھی ہوتی ہیں اس وجہ سے کس نے کب سونا ہے اور کب جاگنا ہے اس کا فیصلہ ماں سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا- ان کی غیر موجودگی میں دوپہر کا قیلولہ مغرب تک ختم نہیں ہوتا ہے اور کوئی یہ بتانے والا نہیں ہوتا کہ مغرب کا ٹائم ہو گیا ہے- دونوں پہر مل رہے ہیں جاگ جاؤ اس لیے نیند کا دورانیہ بہت بڑھ جاتا ہے جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت سارا وقت گزر چکا ہوتا ہے اور نہ تو شام کی چائے دینے والا کوئی ہوتا ہے اور نہ ہی چائے کے ساتھ ملنے والے اسنیکس موجود ہوتے ہیں کچن میں برتن بھی بغیر دھلے منہ چڑا رہے ہوتے ہیں-
5: گھر کے کام
گھر کی صفائی، برتن دھونا گندے کپڑوں کو سمیٹنا اور اس کے ساتھ ساتھ ابو کے مطالبات یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو کہ ماں کی غیر موجودگی میں تنہا ہی بھگتنے پڑتے ہیں- اس کے لیے بیٹی یا بیٹے ہونے کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے بس یہ سارے کام ماں کو یاد کرتے ہوئے کرنے پڑتے ہیں-
6: رات کا کھانا
رات کے کھانے کو بناتے ہوئے بار بار ماں کی عظمت کا احساس روح اور دل کو تڑپاتا ہے دن بھر کے قصے اور کہانیاں سننے والا سامع ، دوستو کے جھگڑوں کی روداد سننے والی، ماں نہیں ہوتی- اس لیے یہ تمام کہانیاں پیٹ میں درد کا باعث بن رہی ہوتی ہیں- ابو ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے ہوتے ہیں ان سے ریموٹ چھین کر ڈرامے کا چینل لگانے والی ماں بھی نہیں ہوتی- اس لیے انہی بور خبروں پر رات کے کھانے کے ساتھ اکتفا کرنا پڑتا ہے-
7: نیند غیر موجود ہوتی ہے
تکیے پر سر رکھ کر کروٹیں بدلتے ہوئے ماں کی نصیحتیں یاد آتی ہیں- موبائل فون ایک جانب رکھ کر سونے کی تلقین کرنے والا کوئی نہیں ہوتا مگر موبائل فون کی اسکرین پر نظریں تو ضرور ہوتی ہیں مگر ایک خالی پن کا احساس بار بار ماں ماں پکار رہا ہوتا ہے-
آخرکار، ایک دن ماں کے بغیر گزار کر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہم سب چاہے کسی بھی صنف سے تعلق رکھتے ہوں کسی بھی عمر کے حصے میں ہو ں ماں کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں اس لیے ماں کو صرف مدر ڈے والے دن نہیں بلکہ ہر دن اس بات کا یقین دلائيں کہ آپ کو اس سے محبت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close