پاکستان کی پہلی خاتون ماہرتعمیرات یاسمین لاری کیلئےجین ڈریوپرائز

پاکستان کی پہلی خاتون ماہر تعمیرات (آرکیٹیکٹ) یاسمین لاری کو جین ڈریو پرائز2020 سے نواز دیا گیا۔ آرکیٹیکس جرنل (اے جی) کے مطابق یاسمین لاری کو فن تعمیراورڈیزائن میں خواتین کی پروفائل بڑھانے میں ان کی خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ سے نوازے جانے سے 79 سالہ یاسمین لاری زاہا حدید، امینڈا لیوٹے، الزبتھ ڈلر، ڈینائس اسکوٹ براؤن، اوڈائل ڈیک، گرافٹن آرکیٹکس کے بانیان وون اے فیرل اورسیلے مکنامارا، کیتھرن فنڈلےاورایوا جیریکنا کی اس فہرست میں شامل ہوگئیں، جنہیں پہلے یہ اعزازات مل چکے ہیں۔
فن تعمیر میں ان کی خدمات کو تسلیم کیے جانے پریاسمین لاری کا کہنا تھا کہ میں بہت شکرگزارہوں کہ مجھے آرٹیکیٹس کے ان ستاروں میں شامل کرلیا گیا جنہیں یہ اعزاز ملا ہے۔ علاوہ ازیں اے جے کے مطابق یاسمین لاری، کراچی میں مشہور عمارتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، جہاں انہوں نےاوکسفورڈ بروکس آرکیٹیکچر اسکول سے 1964 میں گریجویشن کرنے کے بعد پریکٹس کا آغاز کیا۔ ان کے فن تعمیر میں کراچی کی فنانس اینڈ ٹریڈ سینٹر (89-1983) اور پاکستان اسٹیٹ آئل ہاؤس (91-1985) شامل ہیں۔
اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں 1973 میں یاسمین لاری نے لاہورمیں انگوری باغ ہاؤسنگ پروجیکٹ جبکہ 1980 میں لائنز ایریا ری سیٹلمنٹ ڈیزائن کیا۔ بعد ازاں یاسمین لاری فن تعمیر میں ‘بیئرفوٹ’ کی طرف چلی گئی، جس کا مقصد پسماندہ طبقات کو اوپرلانے کے لیے پائیدارماحول اورحصہ لینے والے حل فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ 2007 میں انہوں نے بمبو میں کام کرنے کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے خیبرپختونخوا کےعلاقے سوال میں تنازع کا شکار پناہ گزینوں کےلیے کمیونٹی کچنز فراہم کیے اور پھر سندھ اور کے پی میں سیلاب سےمتاثرہ افراد کےلیےکمیونٹی سینٹرتعمیرکیے۔
واضح رہے کہ جین ڈریو پراز فن تعمیر کا ایک ایسا ایوارڈ ہے جو آرکیٹیکٹ جرنل کی جانب سے ہر سال شعبہ تعمیرات میں جدت، تنوع اور جامعیت دکھانےپرفرد کو دیا جاتا ہے۔ مذکورہ پرائز کا نام انگلش ماڈرنسٹ آرکیٹکٹ جین ڈریو کےنام پررکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close