مسلم لیگ نون کا سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونے کا فیصلہ

لندن میں مقیم پاکستان مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کو ملکی سیاست میں دوبارہ سے متحرک کیا جائے۔ تاہم پارٹی کو سیاسی طور پر متحرک کرنے کی ذمہ داری نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کے ذمے لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اس وقت نون لیگ کے اسٹیبلشمنٹ مخالف دھڑے کے سرخیل ہیں۔
چنانچہ نواز شریف نے نیب کی زیر حراست شاہد خاقان عباسی کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی ضمانت کی درخواست دائر کریں تاکہ وہ رہا ہوکر سیاست میں متحرک اور فعال ہو سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف نے کیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایل این جی سیکنڈل میں نیب کی حراست میں ہیں۔ یاد رہے کہ نون لیگ میں دوسرے درجے کی قیادت نے دو دھڑے بنا لیے ہیں۔ ایک دھڑے کی قیادت خواجہ محمد آصف کر رہے ہیں جو کہ اسٹیبلشمنٹ نواز دھڑا ہے جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت شاہد خاقان عباسی کر رہے ہیں جو کہ اسٹبلشمنٹ مخالف ہے۔
نون لیگ میں دو دھڑے تب بنے جب خواجہ محمد آصف نے ووٹ کی بجائے وہ بوٹ کو عزت دیتے ہوئے آرمی ترمیمی ایکٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا جبکہ شاہد خاقان عباسی نے ووٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کیا اور اپنی جماعت میں ڈٹ کر آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کی۔ چنانچہ آرمی ترمیمی ایکٹ پر ووٹنگ کے روز شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ ایوان سے غیر حاضر رہے۔
یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی احتجاجا اپنی درخواست ضمانت دائر کرنے سے انکاری ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو اپنی درخواست ضمانت دائر کرنے پر قائل کرنے کے لیے پیغام بھیجا یے کہ آپ کو بدنام زمانہ احتساب بیورو کے خلاف توانائی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، سب جانتے ہیں کہ آپ کے خلاف مقدمات من گھڑت ہیں لہذا آپ کو اپنی ضمانت کے قانونی حق کو استعمال کرنا چاہیے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو پہلے پیغام بھیجا، پھر کال کی اور حکام نے ان کی بات بھی کروا دی۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت اسلام آباد نے ایل این جی کیس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 4فروری تک توسیع دے رکھی ہے۔ یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close