وہ وٹامن جس کی کمی متعدد امراض میں مبتلاکرسکتی ہے

وٹامن ڈی واحد وٹامن ہےجوانسان بغیرغذا کے بھی حاصل کرسکتے ہیں، یعنی کچھ چاردیواری سے باہر سورج کی روشنی میں گزار کر۔ سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی جسم کو مل سکتا ہے جبکہ مختلف غذاﺅں اور سپلیمنٹس سے بھی اس کا حصول ممکن ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں اور یہ وٹامن انسانی صحت کے لیےبہت اہم ہے درحقیقت اس کی کمی متعدد امراض کا باعث بن سکتی ہےتواس کی سطح کومستحکم رکھنا درج ذیل بیماریوں کوآپ سےدوربھی رکھ سکتی ہے۔
ملٹی پل سکلیروسز(آٹو امیون مرض)
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وٹامن ڈی ملٹی پل سکلیروسز (sclerosis) کا خطرہ کم رکتا ہے اور کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ اس وٹامن سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے جو اس آٹو امیون بیماری کا شکار ہوں، طبی جریدے اینالز آف نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی اور ملٹی پل sclerosis کے شکار ہونے میں براہ راست تعلق موجود ہے۔
ہڈیوں کے لیے ضروری
وٹامن ڈی جسم کو غذا میں موجود کیلشیئم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں مضبوط رکھنے میں مدد ملتی ہے، وٹامن ڈی اور کیلشیئم کی مناسب مقدار ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ کم کرتی ہے، بچوں کو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہ ذہن میں رہے کہ وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار ہڈیوں کی صحت کے لیے مفید نہیں بلکہ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس وٹامن کا زیادہ استعمال ہڈیوں کی کثافت میں کمی لاسکتا ہے۔
دل کی صحت
متعدد تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی دل کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر کا باعث بننے والے عناصر میں سے ایک ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے، تاہم گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس سے خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔
مخصوص اقسام کےکینسرکی روک تھام
کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی متعدد اقسام کے کینسر بشمول بریسٹ اور آنتوں کے کینسر کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ کچھ اور رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ وٹامن ڈی ممکنہ طور پر کچھ اقسام کے کینسر کی روک تھام کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں بتایا گیا کہ کیلشیئم اور وٹامن ڈی نمایاں طور پر درمیانی عمر کی خواتین میں کینسر کا خطرہ کم کرنے والے غذائی اجزا ہیں۔ ایک اور تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کینسر سے موت کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔ 2018 کی ایک تحقیق کے نتائج اس سے متضاد تھے جس میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی سے کینسر کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔
جسمانی وزن میں کمی
تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار اور زیادہ جسمانی چربی والے افراد میں اکثر وٹامن ڈی کی سطح کم ہوتی ہے، ویب ایم ڈی نامی ویب سائٹ کے مطابق جسمانی چربی وٹامن ڈی کے لیے جال جیسا کام کرتی ہے جس سے جسم کے لیے اسے استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے۔ محققین ابھی اس سے آگاہ نہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی موٹاپے کا باعث بنتی ہے یا نہیں مگر کچھ محدود تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ صحت بخش اور کم کیلوریز والی غذا میں وٹامن ڈی کا اضافہ لوگوں کو جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ڈیمینشیا
کچھ ابتدائی تحقیقی رپورٹس میں یہ کہا گیا ہے کہ ڈیمینشیا (دماغی تنزلی کا باعث بننے والا مرض) کے شکار افراد میں وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے، ان رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس ڈیمینشیا کا شکار ہونے سے بچاسکتے ہیں یا جو مریضوں کو اس سے فائدہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔
انسولین کےاخراج کوریگولیٹ کرے
کچھ تحقیقی رپورٹس میں وٹامن ڈی کی کمی اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کو ظاہر کیا گیا ہے، چوہوں پر ہونے والی ایک جرمن تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کے ریسیپٹر خلیات لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیات میں ہوتے ہیں، جو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے والے ہارمون کو ریگولیٹ کرنے میں متحرک کردار ادا کرتے ہیں، جس سے ہائی بلڈ شوگر اور ذیابیطس سے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے شواہد محدود ہیں۔
گنج پن
گزشتہ سال کے ایک تحقیقی تجزیے میں وٹامن ڈی کی کمی اور alopecia areata(بالوں کی شدید کمی یا گنج پن) کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا تھا، اس تجزیے میں متعدد تحقیقی رپورٹس اور سرویز کو دیکھا گیا تھاجس میں گنج پن کے شکار افراد کے خون کے نمونوں میں وٹامن ڈی کی کمی بہت زیادہ کمی دریافت کی گئی۔ وٹامن ڈی کا بالوں کی نشوونما میں براہ راست تعلق تو نہیں مگر یہ وٹامن ڈی کی کمی سے ہونے والے اثرات کی روک تھام میں مدد دے سکتا ہے۔
فلو سے تحفظ
2018 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی انفلوائنزا وائرس کے خلاف حفاظتی اثرات رکھتا ہے، جبکہ موسمی نزلہ زکام کی روک تھام میں بھی مدد دے سکتا ہے، تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ بات کی مکمل تصدیق ہوسکے کہ وٹامن ڈی فلو سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
حاملہ خواتین کی صحت کے لیے فائدہ مند
2019 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کی شکار حاملہ خواتین میں ہائی بلڈپریشر کا خطرہ بڑھتا ہے اور بچے کی قبل از وقت پیدائش کا امکان ہوتا ہے، اسی طرح دوران حمل وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار پیدائش کے بعد اگلے 2 برس کے دوران بچے میں فوڈ الرجی کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close