کراچی ادبی میلہ: ٹی وی ڈراموں کے خراب معیار پر گفتگو

کراچی ادبی میلے میں پاکستان کے ڈراموں اور فلم میں عورت کے کردار پر بھی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا، مذاکرے کے پینل میں شامل میں میں ٹی وی چینل ‘ہم ٹی وی’ کی ڈائریکٹر سلطانہ صدیقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ نگاروں کو عام طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ ڈرامے میں پہلے بریک سے قبل عورت کو کتنے تھپڑ لگیں گے۔ اور پھر مجھے پروڈیوسرز کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہم انہیں ڈرامے دکھائیں۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے اور میں بیچ میں پھنس کر رہ جاتی ہوں۔
ادبی میلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلطانہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی ٹی وی انڈسٹری میں جتنے نجی چینلز آئے ہیں اور ان کی وجہ سے ڈراموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ہم اس کےلیے اتنے تیار نہیں تھے اور اتنا ادب تھا نہ ہی لوگ اتنے تربیت یافتہ تھے، نہ وہ ریڈیو سے آسکے اور نہ ٹی وی سے تربیت حاصل ہوسکی۔
سلطانہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ایسی ہی صورت حال پاکستان میں نجی نیوز چینلز کی بھی ہے جہاں جو جتنا تیز بول لے اور لڑ لے وہ اینکر ہے۔’اس کے علاوہ یہ جو دوڑ لگی ہے کہ ریٹنگ ریٹنگ، اس سے تکلیف ہوتی ہے۔’
رکن صوبائی اسمبلی اور پی ٹی وی سمیت کئی نجی ٹی وی چینلز میں میزبانی کے فرائض سر انجام دینے والی مہتاب راشدی کا کہنا تھا کہ انھیں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کس کے گھر میں ریٹنگ میٹرز لگے ہوتے ہیں۔
‘جیسے دوسری مافیاز ہیں، یہ بھی ایک مافیا ہیں کیوں کہ ان میٹرز سے لوگوں کے رجحان کا پتہ چل رہا ہے نہ ہی یہ پتہ چل رہا ہے کہ کون کیا دیکھ رہا ہے۔ جو کہہ رہے ہیں کہ عورت کو دس تھپڑ لگنا ضروری ہے وہ عورت کو زیادہ پستا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی وی کی سابق ایم ڈی اور ڈرامہ نویس رعنا شیخ کا کہنا تھا کہ ان کے ڈراموں میں عورت پر جبر کے ساتھ آپشن بھی بتائے جاتے تھے کہ اگر اس کو تھپڑ مار کر گھر سے نکال دیا جائے تو وہ کیا کر سکتی ہے۔
‘بینظیر بھٹو، میڈم نورجہاں، ثنا میر، ملالہ اور ریشماں بھی عورتیں ہیں، ان کی کہانیاں نظر نہیں آتیں۔ ہمیں صرف ایک عورت نظر آتی ہے کہ گھر میں بیٹھی ہوئی سج دھج کر جوتے کھا رہی ہے، اسے ایک غلام کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ جو لڑکیاں دیکھ رہی ہیں، جو کل کا مستقبل ہے، آپ انہیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تمہارے شوہر اگر تمہیں مارے پیٹے تو چپ رہو، اس کے پیروں پر گر کر معافی مانگ لینا۔ ایسا بالکل ٹھیک نہیں، آپ نے اس کو مضبوط دکھانا ہے اور یہ طاقت میڈیا دے سکتا ہے۔
ڈرامہ نویس حسینہ معین نے اپنے پہلے ڈرامے شہزوری کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے یونیورسٹی سے نکل کر ڈرامہ لکھنا شروع کیے تھے۔ ‘مجھے جب ٹی وی پر بلایا گیا لکھنے کےلیے تو مجھے وہ لڑکی یاد آئی جو من مانی کرسکتی ہے جس کی لوگ بات مان سکتے ہیں کیوں کہ وہ درست بات کر رہی ہے۔’
حسینہ معین کا کہنا تھا کہ لکھنے والے کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ بھی بتائے کے عورت میں عزت نفس بھی ہوتی ہے اور اگر اس کی عزت نفس ختم کر دی تو عورت ختم ہوجائے گی۔ ‘موجودہ وقت میں ہم عورت کی عزت نفس ختم کررہے ہیں۔ اس کو مار پیٹ رہے ہیں، گھر سے باہر نکال رہے ہیں، یہ ہر عورت کےلیے تکلیف دہ ہے پھر چاہے وہ بولے یا نہ بولے۔’
ڈرامہ پروڈیوسر انجلین ملک کا کہنا تھا کہ ہمارے جو ناظرین ڈرامہ دیکھتے ہیں ان کے پاس تفریح کے مواقع نہیں ہیں۔ ‘ہمارے ڈراموں میں عورتیں مضبوط دکھائی جاتی ہیں اور اس پر ہمیں پیمرا کے کئی نوٹسز بھی آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ عورت کو کیسے مضبوط دکھا سکتے ہیں، ایک عورت کیسے خلع مانگ سکتی ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ دیکھنے والے اپنی سوچ میں بہت سخت گیر ہیں اور اگر ایک ڈرامہ مقبول ہوتا ہے تو اسی طرز کے پانچ چھ ڈرامے اور بنتے ہیں۔ ‘آپ اسی سوچ کو اور فروغ دیتے ہیں جس کو دراصل تبدیل کرنا ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ اس کو تبدیل کریں لیکن پیمرا کے نوٹسز کے بعد ہم اس کو جاری نہیں رکھ سکے۔’
پاکستان کے نیوز چینلز اور ادب کے موضوع پر بات کرتے ہوئے جیو نیوز کے ڈائریکٹر نیوز اظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگر دیکھا جائے تو محدود حد تک ہی چینلز کی گنجائش موجود رہی ہے، جیسے پوری دنیا میں ہوتا کہ چند قومی سطح کے چینلز ہوتے ہیں، اس کے بعد سٹی یا ریجنل چینلز ہوتے ہیں جن کی پاکستان میں اجازت ہی نہیں دی گئی ۔ ‘نہ صرف ناظرین کو بلکہ ریوینیو کو بھی اتنا تقسیم کر دیا گیا ہے کہ جو چند بڑے میڈیا گروپس ہیں ان کی وہ آواز اور وہ قوت نہ رہ جائے کہ وہ کوئی لڑائی لڑ سکیں اور اظہار رائے کی آزادی پر کوئی اسٹینڈ لے سکیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے، پھر چاہے اس کا کبھی میڈیا یا صحافت سے کوئی تعلق رہا ہے یا نہیں، وہ صحافت میں آ گئے تا کہ اپنے اصل کاروبار کےلیے رعایت حاصل کرسکیں۔’
اظہر عباس کا کہنا تھا کہ پرانے چینلز کے جو ماڈل تھے وہ اتنے برے نہیں تھے لیکن اب وہ ٹاپ ہیوی ہو گئے ہیں۔ نیوز اینکرز کی کاسٹ سب سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ‘چینلز کو دیکھنا پڑے گا کہ ان کو کیسے کم کریں گے کیوں کہ نیچے سے لوگوں کو نکال کر کوئی فرق نہیں پڑنا، کتنے بھی لوگ نکالیں اس کی مجموعی لاگت اس اینکر کی تنخواہ سے کم ہے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close