سرخ گوشت کا استعمال امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے

امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کھانے سے امراض قلب کا شکار ہوسکتے ہیں۔
نارتھ ویسٹرن میڈیسین یونیورسٹی اور کارنیل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرخ اور پراسیس گوشت کا استعمال امراض قلب اور موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ہفتے میں صرف 2 بار سرخ گوشت، پراسیس گوشت یا چکن کا استعمال سوائے مچھلی کے دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ 3 سے 7 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
اسی طرح ہر ہفتے 2 بار سرخ یا پراسیس گوشت (چکن یا مچھلی نہیں) کھانے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ معمولی فرق ہے مگر پھر بھی سرخ گوشت اور پراسیس گوشت کا استعمال کم کرنا صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے اور اس سے پہلے بھی ثابت ہوچکا ہے کہ زیادہ سرخ گوشت کا استعمال دیگر طبی مسائل جیسے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ حیوانی پروٹین پر مشتمل غذاﺅں کے استعمال میں احتیاط امراض قلب اور قبل از وقت موت کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے اور محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض اور موت کے درمیان تعلق ثابت ہوتا ہے۔ مچھلی، سی فوڈ اور پروٹین کی نباتاتی قسم جیسے گریاں اور دالیں وغیرہ گوشت کا بہترین متبادل ہیں۔
تحقیق میں چکن کھانے اور دل کی شریانوں کے امراض کے درمیان مثبت تعلق کو دریافت کیا گیا تاہم اس حوالے سے فی الحال شواہد اتنے زیادہ نہیں جو اس گوشت کے بارے میں سفارشات کا باعث بن سکیں، تاہم فرائیڈ چکن سے ضرور گریز کرنا چاہیے۔ اس تحقیق میں 29 ہزار سے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close