’لیٹ می ان‘پلاسٹک سرجری والا رئیلٹی شو

دنیا بھر میں رئیلٹی شوز کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے، اسی طرح جنوبی کوریا میں بھی ایک رئیلٹی شو کو غیر معمولی شہرت مل رہی ہے اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس شو میں انتہائی غریب خواتین کا چہرہ کئی سرجریوں سے تبدیل کرکے انہیں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ پہچاننے میں نہیں آتیں، تاہم بعض ناقدین نے اس پروگرام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس پروگرام میں معمولی صورت، چہرے کے نقائص اور دیگر اقسام کی کمی کی حامل انتہائی غریب خواتین کو شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی سرجری محض گوری رنگت یا ناک سیدھی کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ جبڑے کے پیچیدہ آپریشن کرکے اسے خاص تشاکل یا سمٹری میں لایا جاتا ہے جو عام حسن کی علامت ہے۔ اس طرح آپریشن سے پہلے اور بعد میں خاتون کا چہرہ یکسر بدل جاتا ہے۔

اس پروگرام کا نام ’لیٹ می اِن‘ ہے جس میں شامل خواتین کا جبڑا، چہرہ، دانتوں کی سیدھ کو اس طرح بدلا جاتا ہے کہ وہ یک دم خوبصورت اور پُرکشش دکھائی دیتی ہیں۔ یہ پروگرام گزشتہ 10 برس سے چل رہا ہے جسے ناظرین نے سراہا ہے۔ دوسری جانب ناقدین نے کہا ہے کہ یہ پروگرام بقیہ خواتین میں احساسِ محرومی پیدا کرتے ہوئے انہیں بھی پلاسٹک سرجری کے مہنگے ترین آپریشن کی طرف لبھا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فی کس آبادی میں پلاسٹک سرجری میں جنوبی کوریا پہلے نمبر پر ہے اور پلاسٹک سرجنوں کا جمعہ بازار کھلا ہے یہاں تک کے کالج اور جامعات کی لڑکیوں میں ناک، ہونٹ اور آنکھیں بڑی کرانے والے آپریشن عام ہیں۔
’لیٹ می ان‘آپریشن سے پہلے اور بعد میں آنے والی خواتین کو بسا اوقات پہچاننا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ اس پروگرام میں کسی بھی نقص والی خاتون کو بار بار یہ احساس دلایا ہے کہ سرجری کے بغیر اس کی زندگی ادھوری ہے اور اس طرح قدرتی نقوش والی خواتین کو ان کی کمی کا احساس دلایا جاتا ہے۔

کوریا میں خواتین کے حقوق کی ایک تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ٹی وی شو کاسمیٹک سرجری کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن سے قبل خواتین کو بہت عجیب و غریب ناموں سے پکارا جاتا ہے جو عام چہرے والے انسانوں کی توہین ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close