کون لوگ جلدی کرونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں؟

بازاروں میں کام کرنے والے اور کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد کو کرونا وائرس لاحق ہونے کا خطرہ کسی عام آدمی سے زیادہ ہوتا ہے۔ چین کے شہر ووہان کے جنینٹان ہسپتال میں کرونا وائرس کا علاج کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم کے مطابق کرونا وائرس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، سانس لینے میں دشواری اور شدید کھانسی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 430 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جس میں 20 ہزار 450 سے زائد مریضوں کا تعلق چین سے ہے۔
کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے 99 مریضوں کے علاج سے متعلق ایک میڈیکل جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق ان مریضوں میں نمونیہ کی علامات واضح تھیں۔ ان کے پھیپھڑوں میں تکلیف تھی اور اس کی وجہ ان میں پانی کا بھرا ہونا تھا۔ ان مریضوں میں سے 82 افراد کو تیز بخار، 81 کو کھانسی، 31 افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا جبکہ 11 افراد کو پٹھوں میں درد، 8 افراد کو سر درد اور 5 افراد کو گلے کی سوزش کی شکایت تھی۔
ڈاکٹروں کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ جن دو افراد کی پہلے پہل موت ہوئی وہ بظاہر صحت مند نظر آ رہے تھے۔ تاہم انھیں طویل عرصے سے سگریٹ کی لت تھی اور ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے کمزور ہوگئے ہوں۔
ہسپتال لائے جانے والے ایک 61 سالہ شخص میں شدید نمونیہ کی علامات واضح تھیں۔ اسے سانس لینے میں شدید دشواری تھی۔ یعنی اسکا پھیپھڑا جسم کو زندہ رکھنے کے لیے درکار آکسیجن فراہم نہیں کر پا رہا تھا۔ وینٹیلیٹر پر رکھے جانے کے باوجود اس کے پھیپھڑے ناکام ہوگئے اور اس کے دل نے کام کرنا بند کر دیا۔
دوسرے مریض کی عمر 69 سال تھی اور اسے بھی سانس لینے میں شدید تکلیف ہو رہی تھی۔ مصنوعی طور پر اسے آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اس کی موت اس وقت واقع ہوئی جب نمونیہ سے ان کا بلڈ پریشر گر گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ووہان کی ہوانان سی فوڈ مارکیٹ میں فروخت ہونے والے جانوروں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کا سبب بتایا جا رہا ہے۔ ووہان کے جنینٹان ہسپتال لائے جانے والے 99 افراد میں سے 49 کا سی فوڈ یا سمندری غذا کے بازار سے رابطہ تھا۔ ان میں سے 47 افراد یا تو ہوانان سمندری غذا مارکیٹ میں منیجر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے یا وہاں دکانیں چلارہے تھے۔ متاثرہ افراد میں صرف دو ہی ایسے تھے جو دراصل خریدار تھے۔
ڈاکٹروں کے مطابق 99 مریضوں میں سے زیادہ تر ادھیڑ عمر کے تھے۔ ان میں 67 مرد تھے اور مریضوں کی اوسط عمر 56 سال تھی۔
چین میں امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز کا کہنا ہے کہ اوسطً چھ مردوں کے مقابلے میں پانچ خواتین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی وجوہات کی وجہ سے مردوں میں وائرس کی زد میں آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
جنینٹان ہسپتال کے ڈاکٹر لی جانگ کہتے ہیں: ‘کورونا وائرس کے انفیکشن کا خطرہ خواتین میں کم ہے کیونکہ انھیں ایکس کروموسوم اور جنسی ہارمون کی وجہ سے زیادہ قوت مدافعت حاصل ہے۔’
ڈاکٹروں کا اپنی رپورٹ میں مزید کہنا ہے کہ ہسپتال لائے گئے 99 مریضوں میں سے زیادہ تر لوگوں کو پہلے سے ہی کوئی نہ کوئی بیماری تھی۔ اسی لیے ان میں کرونا سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ تھا۔ 40 مریضوں کو دل کی کمزوری یا خون کی شریانوں کی پریشانی تھی۔ انھیں دل کی بیماری تھی اور پہلے دل کا دورہ پڑ چـکا تھا۔ جبکہ 12 افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔ قوت مدافعت میں کمی کی وجہ سے وہ جلد کرونا وائرس کا شکار ہو گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close