ٹنڈوالہ یار : تین ماہ میں ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق

سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار کے گاؤں سارنگ ہکڑو میں کے کالے یرقان (ہیپاٹائٹس بی اور سی) کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی اب تک 20 فیصد افراد میں کالے یرقان تصدیق ہوئی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق گوٹھ سارنگ ہکڑو کے رہائشیوں کی اسکریننگ کے بعد 10 میں ہیپاٹائٹس بی اور 49 میں ہیپاٹائٹس سی مثبت پایا گیا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لکشمن داس کا کہنا ہے کہ 3 ماہ کے دوران اب تک 33 افراد ہیپاٹائٹس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گوٹھ سارنگ ہکڑو میں اسکریننگ کا کیمپ لگایا گیا تھا، یرقان میں مبتلا متاثرہ افراد کی جلد ویکسینیشن کرائی جائے گی۔
اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالحفیظ لغاری کا کہنا ہے کہ مرض کے اضافے اور اموات کی وجہ گوٹھ میں گندے پانی کی فراہمی ہے، پانی کو صا ف کرنے کےلیے آر او پلانٹ لگایا جائے گا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو تہائی سے زائد گھرانے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور ہر سال تقریباً 53 ہزار پاکستانی بچے آلودہ پانی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close