احسان صاحب چلے گئے تو کیا قیامت آ گئی؟

تحریر:وسعت اللہ خان
کیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا کہ ریاست حمود الرحمان کمیشن رپورٹ باضابطہ طور پر شائع کرے؟ہم اگلے 50 برس بھی یہ مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ بحثیت ذمہ دار پاکستانی شہری ہمیں اپنے نصف صدی پرانے اس ریاستی بیانیے پر صد فیصد اعتماد ہے کہ مشرقی پاکستان کی محبِ وطن بنگالی اکثریت کو چند مٹھی بھر غداروں نے انڈیا کی مدد سے ورغلانے کی کوشش کی اور بدقسمتی سے یہ عناصر اپنی کوششوں میں ان طاغوتی طاقتوں کی مدد سے کامیاب ہوگئے جنھیں پاکستان کا وجود ہمیشہ سے کھٹکتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی پوچھا کہ ہمیں ہماری مرضی کے خلاف کرائے کی ریاست کی طرح 40 برس میں دو بار افغان جنگ میں کیوں گھسیٹا گیا اور اس کے بدلے ہماری ریاست و معاشرے کے ساتھ آج تک جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے اور بھرپائی کون کرے گا؟
ہم کبھی یہ مطالبہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم سب بحیثیت ذمہ دار شہری جانتے ہیں کہ ہم نے یہ جنگ اپنے افغان بھائیوں کی بقا کے لیے فی سبیل اللہ لڑی۔ جتنے ڈالر آئے، اس سے دوگنے کا نقصان ہم نے اپنے سینے پر برداشت کیا، لہٰذا کسی سے بھی کسی بھی طرح کی باز پرس کا سوال ہی نہیں۔
کیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا کہ کارگل میں کیا ہوا اور کس کی ایما پر ہوا، اسے جاننے کے لیے ایک حقائق جو کمیشن بنایا جائے؟
ہمیں یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ کارگل مہم میں کوئی پاکستانی ادارہ شامل نہیں تھا، وہ تو البدر و حزب المجاہدین کے کشمیری حریت پسندوں اور قابض انڈین فوج کے درمیان کی لڑائی تھی۔
دشمن اپنی فوجی قوت اور امریکہ جیسے آستین کے سانپوں کی مدد سے جیت گیا اور مجاہدین کو بڑی تعداد میں جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ اللہ تعالی ان کی قربانیاں قبول فرمائے۔
ایک ایسا واقعہ جس میں آج تک کسی ریاستی ادارے نے براہ راست شریک ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا، اس کے بارے میں کسی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ دراصل دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے جیسا ہے۔ ہمیں اپنے اداروں اور ان کے بیانیے پر پورا اعتماد ہے اور رہے گا انشاللہ۔
کیا کبھی مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ یا کسی بھی سرکردہ سیاسی جماعت نے کبھی مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے معاملے سے پردہ اٹھانے اور سیکورٹی معاملات سے غفلت برتنے والوں کے تعین کے لیے قائم کردہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ عام ملاحظے کے لیے شائع کر دی جائے؟
آخر ہم یہ مطالبہ کیوں کریں جب ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ سارا قصور ایبٹ آباد میں جعلی ویکسینیشن مہم چلانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی اور اس کے سرپرست امریکہ کا ہے جس نے پاکستانی جغرافیائی حدود اور تمام مروجہ بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ایبٹ آباد آپریشن کیا۔خدا امریکہ کو پوچھے۔
آج کل بعض شرپسند یہ الٹی سیدھی پھیلا رہے ہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبانِ پاکستان کے ایک سابق ترجمان احسان اللہ احسان صاحب ریاستی تحویل سے فرار ہو گئے ہیں اور اس بابت وہ آڈیو بطور ثبوت پیش کی جا رہی ہے جو بظاہر احسان صاحب کی آواز میں ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ احسان صاحب گرفتار نہیں ہوئے تھے بلکہ اپنی مرضی سے انھوں نے سرینڈر کیا اور حساس اداروں کو ایسی معلومات فراہم کیں جن کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں بہت مدد ملی۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس تعاون کے عوض وہ پشاور کے علاقے حیات آباد میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھے۔ اور ایک دن جب وہ اکتا گئے تو چوکیدار کو چابیاں تھما کے نکل کھڑے ہوئے۔ یعنی اپنی مرضی سے آئے، جی نہیں لگا تو اپنی مرضی سے چلے گئے۔
بات یہ ہے کہ جب احسان اللہ احسان نے مارچ یا اپریل 2017 میں سرینڈر کیا تھا تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بذاتِ خود احسان صاحب کو تحویل میں لیے جانے کا اعلان کیا تھا اور ایک نجی ٹی وی چینل سے ان کا انٹرویو بھی نشر کروایا گیا۔
اگر واقعی احسان صاحب سیکورٹی اداروں کی تحویل سے نکل گئے ہیں تو جس طرح آئی ایس پی آر نے ان کی آمد کا باضابطہ اعلان کیا تھا اسی طرح آئی ایس پی آر ایک روز ان کی روانگی کی بھی تصدیق کرے گا۔
اب آپ پوچھیں گے کہ میں احسان اللہ احسان کے ساتھ صاحب کیوں لگا رہا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے چونکہ سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا کہ وہ سکہ بند مطلوب خونی دہشت گرد ہیں لہٰذا تہذیبی تقاضا یہی ہے کہ میں ان کے پیشے یا افعال کے بارے میں کسی پیشگی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کروں۔
دوسری بات یہ ہے کہ احسان صاحب کے بارے میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ملالہ پر قاتلانہ حملے، آرمی پبلک اسکول کے قتلِ عام، اقبال پارک لاہور میں مسیحی شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت، پشاور ایرپورٹ پر حملے اور شیعہ عبادت گاہوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔
نیز پشاور ہائی کورٹ نے بھی ریاستی اداروں کو مناہی کی ہے کہ وہ اے پی ایس کے مقتول بچوں کے والدین کی رضامندی کے بغیر احسان اللہ احسان کو نہیں چھوڑ سکتے، کیونکہ انھیں معاف کرنے کا حق ریاست کو نہیں ڈیڑھ سو بچوں کے والدین کو ہے۔
یہ سب اپنی جگہ درست ہوگا مگر ہمیں احسان صاحب کے معاملے کو صرف ایک ہی رخ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ آخر کسی کو کیوں دھیان نہیں کہ بقول ایئر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف احسان اللہ صاحب نے دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے پاکستانی اداروں سے دورانِ تحویل کتنا گراں قدر تعاون کیا ہے اور وہ اس حیثیت میں دراصل ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے ہیں۔
اگر واقعی ایسا ہے تو پھر تو فرار کے اسباب اور ذمہ داروں کی کھوج کے مطالبے کے بجائے احسان صاحب کو تمیز اور تہذیب کے ساتھ مدعو کر کے کم ازکم ہلالِ امتیاز ضرور عطا کرنا چاہیے۔
نیز فی الوقت حب الوطنی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ تمام تر دھیان پی ٹی ایم اور عوامی ورکرز پارٹی جیسی تنظیموں کی پراسرار پرامن سرگرمیوں پر دیا جائے اور احسان صاحب کے تشریف لے جانے کے معاملے پر رائی کا پہاڑ بنا کر دشمن کا ایجنڈا آگے بڑھانے سے گریز کیا جائے۔
جب ریاستی اداروں کو وضاحت کی جلدی نہیں تو آپ کیوں ایسے اتاولے ہو رہے ہیں؟ جائیے، تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے اندرونی اختلافات کی سنسنی خیز کہانی پر ٹاک شو کیجیے، کس نے روکا ہے آپ کو؟

بشکریہ: بی بی سی اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close