2019 میں 10 کروڑ افراد غریب جبکہ 10لاکھ بیروزگار ہوئے

معلوم ہوا ہے کہ سال 2019 میں 10 کروڑ پاکستانی غریب ہوگئے اور 10 لاکھ بیروزگار ہو گئے اور اس تعداد میں 2020 میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ 2020 میں ملک میں افراط زر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے۔
یہ ہوشربا انکشاف معروف ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نےکیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جنوری میں افراط زر کے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان میں اضافہ تو دکھایا گیا ہے لیکن وہ اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے جبکہ صنعتی شعبے کی پیداوارمیں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپید ڈیزل کے استعمال میں 10 فیصد کمی آئی ہے۔
حفیظ پاشا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ الگ الگ راستوں پر گامزن ہیں اور کوئی باہمی اشتراک نظر نہیں آ رہا۔ حکومت کے ریزرو میں اضافہ ہوا ہے تاہم جس طریقے سے اضافہ کیا گیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ پاشا نے کہا کہ نجی سیکٹرز کے اخراجات سود کی وجہ سے 71 فیصد کم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کیا کہ گزشتہ سال پاکستان میں مزید 10 کروڑ افراد غریب ہوئے اور 10 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے۔ اب سال 2020 میں ترقی کی رفتار مزید کم ہونے کا امکان ہے اور مزید افراد بے روزگار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مڈل کلاس بھی اس وقت بہت زیادہ پریشان ہے۔ پاشا نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک اپنی مرضی کی رپورٹ دے رہا ہے اور مکمل رپورٹ سامنے نہیں لائی جا رہی، انہوں نے دعوی کیا کہ ملک میں افراط زر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ حکومتی آمدن میں اضافے کا طریقہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایک فیصد بڑھنے سے 130 ارب روپے کا اضافہ ہوتا ہے اور حکومت کو 300 ارب روپے حاصل کرنے ہیں تو دو فیصد سیلز ٹیکس لگا دے۔
پاشا نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تیل کی بین الاقوامی طور پر قیمت کریش کرگئی ہے یہاں بھی حکومت کو اچھا فائدہ ہو رہا ہے، افراط زر کی کمر توڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کم کر دیں جس کا اثر ہر جگہ پڑے گا۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ صوبائی حکومتیں 330 ارب روپے لے کر بیٹھی ہوئی ہیں انہیں وہ خرچ کرنا چاہیے،آئی ایم ایف خود کہہ رہا ہے کہ رقم خرچ کی جائے لیکن یہ خرچ نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری یا خرابی کی ذمہ دار وزارت خزانہ ہوتی ہے، اگر حکومت شرح سود کم نہیں کرتی تو سرمایہ کاری مزید کم ہو گی، ایکسپورٹ پر حکومت نے انتہائی غلط اقدامات لیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close