کپتان پر بننے والے لطیفے سکھوں سے بھی زیادہ مقبول

وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے عوام نے سوشل میڈیا پر حکومتی کارکردگی کے حوالے سے ایسے دلچسپ لطیفے ایجاد کیے ہیں خدا کی پناہ۔ ان مزاحیہ لطائف اور تبصروں نے پٹھانوں اور سکھوں سے منسوب لطیفوں کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بعض پاکستانیوں کے لئے کپتان کا نجات دہندہ کا تصور کچھ اس قدر بھیانک نکلا کہ یہ سب کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمارا وزیراعظم ایک ایسا الیکٹریشن ہے جو بلایا گیا تھا زیرو کا بلب ٹھیک کرنے لیکن اس نے پورے گھر کی وائرنگ جلا ڈالی۔

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک اور لطیفہ بہت وائرل ہے۔ ایک تنگ حال شخص نے پرائم منسٹر سیکریٹریٹ فون کیا تو اس سے پوچھا گیا کہ آپ کی کیا مدد کی جاسکتی ہے،،،
وہ شخص بولا،
میں وزیر اعظم بننا چاہتا ہوں۔
دوسری جانب سے جواب ملا کیا،،، تم پاگل ہو ۔۔۔۔
یہ سن کر اس شخص نے اطمینان کا سانس لیا اور مزید پوچھا کہ کیا وزیراعظم بننے کے لئے یہی ایک شرط ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور بھی ہے.

ایسا ہی ایک اور لطیفہ بھی سوشل میڈیا پرخوب مقبول ہے جس میں ایک فقیر رو رو کر صدا لگاتا ہے کہ اللہ کے نام پر مجھے سو روپے دے دو ورنہ،،، اللہ کے نام پر مجھے سو روپے دے دو ورنہ ،
فقیر کی صدا سن کر ایک گاڑی والا اس کے قریب آکر پوچھتا ہے کہ بھئی تم سو روپے مانگ رہے ہو لیکن ساتھ ہی یہ ورنہ کیوں کہہ رہے ہو، فقیر غصیلے لہجے میں بولا کہ ورنہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے بھیک میں سو روپے نہ دیئے تو اگلی بار پھر میں عمران خان کو ووٹ دوں گا اور اس طرح تم لوگ بھی میرے ساتھ بھیک مانگتے ہوئے نظر آؤ گے۔
کہتے ہیں کہ گاڑی والے نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور ہزار روپے کا نوٹ نکال کر فقیر کو تھما دیا اور اسے کہا اللہ کا واسطہ اس مرتبہ عمران خان کو ووٹ مت دینا۔

تحریک انصاف اوروزیراعظم عمران خان کی کار کردگی سے کسی کو بھلے ہی لاکھ اختلاف ہو لیکن ہمارے معاشرے میں حقیقت پسند لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں، ایک سوشل میڈیا صارف نے تحریک انصاف حکومت سے منسلک ایک ایسا شخص ڈھونڈ لیا ہے جو پوری تندہی اور محنت کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کے ساتھ ایک فوٹو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ حکومت میں اس وقت صرف ایک ہی بندہ درست انداز میں کام کر رہا ہے اور وہ ہے ان کا فوٹو گرافر۔

کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں نانی یاد آجاتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں عوام کو دو وقت کی روٹی کمانے اور پیٹ بھرنے کے ایسے لالے پڑے ہیں کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح یاد آگئے ہیں۔
میڈیا پر ایک دل جلے صارف نے پاکستان کے سیاسی مشاہیر کی چند تصاویراور ان کے خطابات لکھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو کئی نئے خطابات دے ڈالے۔
صارف نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو بانی ملت، سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کو قائد ملت، محترمہ فاطمہ جناح کو مادرِملت تسلیم کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو قائد قلت قرار دیا اور تفصیلاً بتایا کہ عمران خان کے دور حکومت میں بجلی کی قلت، پانی کی قلت، گیس کی قلت، آٹے کی قلت، چینی کی قلت، پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اس صارف نے اپنی تخلیقی پوسٹ کے آخر میں قلت ہی قلت لکھ کر اپنے دل کی اچھی طرح بھڑاس نکالی۔

حالیہ دنوں آٹے اور گندم کے بحران نے اہلیان پاکستان کے زخموں پر ایک بار پھر نمک چھڑکا اور ہر کوئی یہی دہائی دیتا رہا کہ
ووٹ لیا تھا تبدیلی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے۔۔۔۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک سچے اور دردمند رہنما کی طرح آٹے اور چینی کے بحران کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا اور پاکستان میں شوگر مافیا کے سرخیل سمجھے جانے والے اپنے قریبی ساتھی جہانگیر ترین سے بھی اس حوالے سے خصوصی ملاقات کی۔ مہنگائی سے تنگ عوام کو وزیراعظم اور جہانگیر ترین کی ملاقات ایک آنکھ نہ بائی۔ ایک دل جلے نے سوشل میڈیا پر یہ تصویر شیئر کرکے نیچے لکھا کہ کپتان اور انکے ساتھی ترین پاکستانیوں کو لوٹنے کے نئے طریقوں پر غور و فکر کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی بیڈگورننس سے تنگ آئے کئی شہریوں کو تو ملا نصیرالدین کا زمانہ بھی یاد دلادیا ہے۔ ایک صارف نے سوشل میڈیا پر لطیفہ شیئر کیا، جو کچھ یوں ہے۔۔۔
ایک دن ملا نصرالدین ایک گدھے پر الٹا سوار ہوگئے،،،
کسی نے پوچھا، ملا آپ گدھے پر الٹے کیوں سوار ہیں۔۔۔
جواب دیا کہ پیچھے سے آنے والے خطرات دیکھنے کے لئے۔۔۔
اس شخص نے پوچھا تو پھر سامنے سے آنے والے خطرات کا کیسے پتہ چلے گا ۔ ملا نصرالدین نے بڑی متانت سے جواب دیا کہ سامنے سے آنے والے خطرات گدھا دیکھ رہا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ دو سال قبل بھارت نے ایک فلم بنائی گئی جس کا نام ٹھگز آف ہندوستان۔ تحریک انصاف حکومت کے ستائے ہوئے ایک دل جلے نے ٹھگز آف پاکستان نام کے ساتھ فلم کا پوسٹر بنایا جس پر وزیر اعظم صدر مملکت اور کابینہ اراکین کی تصویریں لگا کر نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت دیا بلکہ یہ بتانے کی کوشش کی کہ جنہیں ہم رہنما سمجھے تھے وہ تو ٹھگ نکلے۔
سوشل میڈیا پر یہی نہیں بلکہ اسی طرح کے ان گنت مزاحیہ کمنٹس، لطیفے میمزاورفوٹوشاپڈ تصاویر شیئر کر کے صارفین وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے اپنا ردعمل دیتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں سکھوں او پشتونوں پر بہت زیادہ لطیفے بنائے جاتے تھے لیکن اب پاکستانیوں کا سیاسی شعور اور معاشی مشکلات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ انہوں نے اپنے کتھارسس یعنی دل کا غبار نکالنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے نت نئے لطیفے ایجاد کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ سنجیدہ حلقے اس رجحان کو ملک میں ادبی ذوق کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close