ق لیگ مان تو گئی لیکن کسی بھی وقت ناراض ہو سکتی ہے

پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف نے 22 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز اور دیگر مطالبات منوا کر حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بنیادی طور پر اگلے بلدیاتی الیکشن میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کیا ہے۔ مگر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج مسلم لیگ ق جس معاہدے کی بنیاد پر حکومت کے ساتھ ہے، کل انہی مطالبات کی بنیاد پر اقتدار سے نکل بھی سکتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے درمیان مطالبات تسلیم نہ ہونے پر پیدا ہونے والی سیاسی تلخی میں مذاکرات کے بعد معاملات طے پا گئے۔ 10فروری کے روز گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پر مشتمل حکومتی مذاکراتی ٹیم نے وفاقی وزیر برائے پلاننگ اسد عمر اور وزیر دفاع پرویز خٹک کی معیت میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے گھر پر ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کی جس کے بعد چوہدری پرویز الٰہی نے یہ علی الاعلان کہا کہ مسلم لیگ (ق)، وزیر اعظم عمران خان کے دور میں تبدیلی چاہتی ہے۔ ہمیں وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں اور مثبت پالیسیوں پر کوئی شک نہیں ہے صرف جو طریقہ کار ہے جسے مشاورت سے مل کر حل کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا اتحاد آئندہ انتخابات تک اسی طرح برقرار رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بنیادی مسئلہ اختیارات اور پاور شیئرنگ کا تھا جو وقتی طور پر حل ہوگیا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں دونوں اتحادیوں کے مابین 22 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات کے معاملات حل کر کے باقاعدہ صلح ہوئی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ حالیہ ڈیل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف مطالبات اور اختیارات کے حصول کی لڑائی تھی، کسی کے اقتدار پر قبضے کی خواہش نہیں تھی۔ اب پنجاب میں تین متوازی حکومتیں چلیں گی، ایک عثمان بزدار کی، ایک بیورو کریسی کی اور ایک مسلم لیگ ق کے ارکان کی جو اب ضلعی اور تحصیل کی سطح پر فیصلوں میں خود مختار ہوں گے۔ یہ صرف وزیراعظم عمران خان کے عثمان بزدار کو وزیراعلی لگانے کے غلط فیصلے کا خمیازہ ہے۔ عثمان بزدار پنجاب میں ایک کمزور حکومت کے سربراہ ہیں اور وہ اتحادیوں کے مرہون منت ہیں۔
ق لیگ کے مطالبات من و عن ماننے سے پنجاب کی سیاست میں تبدیلی لانے اور مسلم لیگ ن کو صوبے میں سیاسی طور پر کمزور کرنے کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گا کیونکہ اس میں بیوروکریسی، پی ٹی آئی ارکان اور مسلم لیگ کے درمیان ابہام بنا رہے گا۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ معاملات طے پانے سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ق نے نہ تو وفاق پر نظر جمائی تھی نہ ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر۔ درحقیقت ان کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے تعلقات بہت اچھے ہیں اور وہ وفاق کی جانب سے تعینات کردہ بیوروکریسی کے خلاف اکٹھے ہیں۔ آگے چل کر مسئلہ وہاں پیدا ہو گا جب بیوروکریسی کو دئیے گئے زیادہ انتظامی اختیارات پر بات آئے گی جس پر مسلم لیگ ق اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار دونوں کو تحفظات ہیں۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوتے وقت مسلم لیگ ق اور حکمراں جماعت کا تحریری معاہدہ ہوا تھا کہ جہاں سے بھی مسلم لیگ ق کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں وہاں انھیں ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں گے۔ دونوں جماعتوں کے حالیہ مذاکرات کامیاب ہونے کے اثرات مستقبل میں سامنے آئیں گے جب پی ٹی آئی کے مقابلے میں مسلم لیگ ق کے ارکان پارلیمان کو زیادہ ترقیاتی فنڈز ملیں گے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فی الحال تو ق لیگ نے آنے والے بلدیاتی الیکشن کی وجہ سے پھر سے برسراقتدار تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ بھی ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ جس وقت بھی حکمران جماعت کے اسٹیبلشمنٹ یا مقتدر حلقوں سے تعلقات خراب ہوں گے تو یہ سب اتحادی کسی نہ کسی نکتے پر اختلاف کرتے ہوئے ایک ایک کر کے اس حکومت کو چھوڑ جائیں گے، یعنی شاخ نازک پر بنا آشیانہ ناپائیدار ہوتا ہے لیکن کپتان کی خوش قسمتی کہیے کہ اس وقت اتحادیوں کو بھی علم ہے کہ ابھی یہ حکومت نہیں جا رہی، اس لئے وقتی طور پر معاملات سنبھل گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close