پاکستان میں شیر، چیتے کی افزائشِ نسل کا رجحان

سلمان خان لاہور کی ایک کاروباری شخصیت ہیں، جانور پالنا ان کا شوق ہے، رائیونڈ روڈ پر واقع ان کے فارم پر جہاں دیگر جانور موجود ہیں وہیں یہاں رکھے گئے شیر لوگوں کی توجہ کا اصل مرکز ہوتے ہیں۔
سلمان خان پاس عام اور سفید شیروں کی دو جوڑیاں ہیں۔ انہوں نے سفید شیر کے جوڑے کو پرنس اور پرنسز جب کہ عام شیر کے جوڑے کو راجہ اور رانی کا نام دے رکھا ہے۔سلمان خان کے مطابق ان جانوروں سے ان کا پیار اور محبت کا رشتہ ہے۔ ’میں نے ان کو پیار دیا ہے۔ ان کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھتا ہوں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب یہ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ میری بات مانتے ہیں۔‘ سلمان خان تو اپنے شوق کے لیے شیر پال رہے ہیں لیکن لاہور کے ہی سید توقیر شاہ جنگلی حیات کے کاروبار سے 50 سال سے زائد عرصہ سے منسلک ہیں۔ وہ لاہور میں ایک اس وسیع و عریض وائلڈ لائف فارم کے مالک ہیں، جس میں شیر، ببر شیر، پوما اور دیگر جنگلی حیات و پرندوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہاں ان کی افزائشِ نسل بھی کی جاتی ہے۔
پاکستان اس وقت جنگلی حیات بالخصوص بلی کی نسل سے تعلق رکھنے والے بڑے جانوروں جیسے کہ چیتوں، شیروں، تیندووں اور پوما جیسے جانوروں کی بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔
بین الاقوامی ادارے کنزویشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان انڈینجرڈ اسپیشیز آف وائلڈ فانا اینڈ فلورا (ساآئیٹز)کے مطابق پاکستان میں 2013 سے لے کر 2018 تک مختلف انواع کے 85 شیر، چیتے، ببر شیر وغیرہ درآمد کیے گئے جب کہ ان کے علاوہ پندرہ جانور ٹرافی ہنٹنگ کی صورت میں پاکستان آئے ہیں۔ توقیر شاہ کے مطابق ان جانوروں کو مختلف پارکوں، سفاری پارک، چڑیا گھروں کے علاوہ لوگ پالتو حیثیت سے بھی رکھتے ہیں۔
پنجاب، سندھ اور خیبر پختوںخوا کے محکمۂ جنگلی حیات کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس کی بنیاد پر بتایا جا سکے کہ پاکستان میں ایسے کتنے جانوروں کو پالتو حیثیت سے رکھا گیا ہے تاہم توقیر شاہ کا خیال ہے کہ یہ تعداد سینکڑوں میں ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود تقریباً سو ایسے جانور فروخت کر چکے ہیں جن میں چھوٹی عمر کا جوڑا 16 لاکھ کا فروخت ہوتا ہے جب کہ اس سے بڑا 30 لاکھ اور جوان جوڑا 50 لاکھ روپے تک کا فروخت ہوتا ہے۔
توقیر شاہ کے مطابق ایسے جانور پالنا ایک مہنگا شوق ہے کیوں کہ ایک چھوٹی عمر کا جانور اوسطاً روزانہ ہزار روپے جب کہ جوان روزانہ پانچ ہزار روپے کا گوشت کھا جاتا ہے۔
کراچی کے ایک متمول علاقے میں کام کرنے والے جانوروں کے ایک ڈاکٹر کے مطابق گزشتہ چھ، سات سال سے وہ ہفتے میں دو دن بڑے گھروں میں پالے گئے ایسے جانوروں کا معائنہ اور علاج کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان دو دونوں میں وہ کم از کم چار ’بگ کیٹ‘ کا معائنہ تو ضرور کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم جانوروں کے ایک ڈاکٹر کے مطابق وہ ہفتے میں ایک مرتبہ کسی نہ کسی ’بڑی بلی‘ کا معائنہ کرتے ہیں جب کہ لاہور کے ایک ڈاکٹر کے مطابق وہ اس وقت صرف ’بگ کیٹ‘ کا ہی معائنہ کرتے ہیں اور روزانہ کم از کم ایک ایسے جانور کا معائنہ کرنے کے لیے انھیں جانا پڑتا ہے۔
پاکستان بھر میں اس وقت لائسنس شدہ جنگلی حیات کے رجسٹرڈ اور قانونی فارمز کی تعداد 240 سے زیادہ ہے۔
پنجاب کے محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق پاکستان بھر میں ایسے سب سے زیادہ فارم پنجاب میں ہیں جن کی تعداد دو سو ہے۔ سندھ میں ایسے فارمز کی تعداد 35 جب کہ صوبہ خیبر پختوںخوا میں ایسے آٹھ فارموں کا اندراج ہے۔
پنجاب اور سندھ میں وائلڈ لائف قوانین کے مطابق بریڈنگ فارمز کی اجازت زیرور گیم فارم، سفاری پارک کے مقاصد کو پورا کرنے کےلیے دی جاتی ہے۔ جہاں پر ان بریڈنگ فارم کے مالک جنگلی حیات کی بریڈنگ، خرید و فروخت، شکار اور تبادلہ وغیرہ بھی کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی طور پر جنگلی حیات کے کاروبار پر پابندی ہے مگر خطے کے شکار جنگلی حیات کی نسلوں کو تحفظ دینے اور مختلف ممالک میں ان کی بریڈنگ کےلیے ’ساآئیٹز‘ مقامی حکومتوں کی مشاورت سے ان کی درآمد اور برآمد کی اجازت دیتی ہے۔
حسین کامل کراچی میں اس کاروبار سے منسلک ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنگلی حیات بشمول شیر اور چیتوں کو باہر سے منگوانے کے لیے سب سے پہلے وفاقی وزارت ماحولیات سے اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔
ان کے مطابق ماہرین اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کیا اجازت حاصل کرنے کے خواہمشند فرد کے پاس مطلوبہ سہولتیں موجود ہیں کہ نہیں جس کے بعد یہ معاملہ وفاقی وزارت داخلہ کے پاس جاتا ہے۔
وزارت داخلہ، وزارتِ ماحولیات کی سفارشات کی روشنی میں اپنی سفارشات تیار کر کے ’ساآئیٹز‘ کے مقامی افسران کو دیتی ہے جو ان سفارشات کی روشنی میں جانور کی درآمد کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
حسین کامل کے مطابق بڑی بلیوں کے علاوہ دیگر جنگلی حیات کو بھی درآمد کیا جارہا ہے اور ان کے درآمدکنندگان میں چڑیا گھر، سفاری پارک، نیشنل پارک، بریڈنگ فارمز اور مختلف اداروں کے علاوہ عام لوگ بھی شامل ہیں۔
سید توقیر شاہ کے مطابق چند سال قبل انہوں نے ’بڑی بلیاں‘ درآمد کر کے ان کی بریڈنگ کی تھی۔
’اب ہمیں انہیں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اگر حکومت ہمیں انھیں برآمد کرنے کی اجازت دے تو ہم قیمتی زرمبادلہ بھی پاکستان لا سکتے ہیں۔
’اگر بڑی بلی کو برآمد کیا بھی جائے تو اس کی قیمت کسی بھی صورت میں ایک کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔ موجودہ حالات میں جب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے تو یہ قیمت ایک کروڑ سے زیادہ ہی ہوگی۔‘
وائلڈ لائف پنجاب کے ریزور گیم وارڈن بدر منیر کا کہنا ہے کہ بریڈنگ فارمز بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع تو پیدا کر ہی رہے ہیں اور اگر حکومت برآمد کی اجازت دے تو اس سے یقینا ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا۔
راولپنڈی میں ایوب نیشنل پارک کے مینیجر ڈاکٹر بشیر صدیقی نے بتایا کہ اس پارک میں کل 12 بڑی بلیاں ہیں جن میں سے کچھ چند سال قبل درآمد کی گئی تھیں۔
’گذشتہ تین سال کے دوران ہم نے بریڈنگ سے چھ بچے حاصل کیے جن میں دو کا تبادلہ کیا گیا اور چار کو فروخت کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایوب نیشنل پارک میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کو کم از کم پندرہ ماہ تک ماں کے پاس چھوڑا جاتا ہے، جیسا کہ قدرتی ماحول میں ہوتا ہے اس کے بعد ہی انہیں الگ کیا جاتا ہے۔
پنجاب اور سندھ وائلڈ لائف کے ذرائع کے مطابق قوانین اس بارے میں خاموش ہیں کہ ان جانوروں کو پالتو کے طور پر کن اصول و ضوابط کے تحت رکھا جا سکتا ہے تاہم دونوں صوبوں کے محکمہ وائلڈ لائف نے اس کے لیے کچھ قواعد مقرر کررکھے ہیں۔
پنجاب کے ریزرو گیم وارڈن بدر منیر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی شخص، ادارہ، سفاری پارک وغیرہ لائسنس یافتہ بریڈنگ فارم سے بڑی بلی یا جنگلی حیات کو خریدتا ہے تو اسے چاہیے کہ مذکورہ بریڈنگ فارم سے رسید حاصل کرے کیوں کہ وہ اس بات کی سند ہو گی کہ جانور قانونی طور پر حاصل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارکوں، سفاری پارک، چڑیا گھروں کے لیے اپنے اصول و ضوابط موجود ہیں کہ وہ انھیں کن حالات میں رکھیں گے۔ اسی طرح اگر کوئی پالنے کے لیے ایسا جانور خریدتا ہے تو اس کے لیے قواعد ہیں کہ ان کو کس طرح کے حالات میں رکھا جاتا ہے۔
’وائلڈ لائف کے اہلکار اکثر اوقات چھاپے مارتے رہتے ہیں اور اگر کوئی ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے، جانوروں کو اچھے حالات میں نہ رکھا ہو تو محکمہ ضبط کر کے انھیں چڑیا گھر یا سفاری پارکوں میں بھجوا دیتا ہے۔ گزشتہ سال بھی ہم نے جوہر ٹاؤن سے دو شیروں کو ضبط کیا تھا۔‘
’بگ کیٹ‘کی افزائش نسل کی بات کی جائے تو اس میں جہاں کچھ جانوروں کی بریڈنگ قانونی ہے وہیں کچھ ایسے جانور بھی ہیں جنھیں پاکستان میں پالنے یا ان کی خریدوفروخت کی اجازت نہیں۔
توقیر شاہ کے بریڈنگ فارم میں ہمیں تین تیندوے بھی دکھائی دیے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے خود ان کی بریڈنگ کی ہے جس کی انھیں اجازت ہے۔
تاہم اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمن کا کہنا تھا کہ ’تیندوے کو کسی بھی بریڈنگ فارم، فارم وغیرہ میں بھی رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس کو بطور پالتو جانور رکھا جا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس سلسلے میں قوانین بڑے واضح ہیں۔ اگر اس کو پکڑ ا جائے گا، کہیں بھی جنگل، قدرتی نظام کے علاوہ رکھا جائے گا تو یہ غیر قانونی ہو گا۔‘
خیال رہے کہ تیندوا پاکستان کا مقامی اور محفوظ قرار دیا گیا جانور ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے علاوہ باقی صوبوں میں بھی اس کو شیڈول تھری میں رکھا گیا ہے جس کی رو سے اس کا شکار کرنا، پالنا اور خرید و فروخت مکمل طور پر ممنوع ہے۔
پاکستان اینمل ویلفیئر سوسائٹی (پاویز) کی مہرہ عمر کے مطابق پاکستان میں گذشتہ چند برسوں سے جنگلی حیات بالخصوص شیر، چیتے پالنے کا شوق بہت تیزی سے پروان چڑھا ہے اور یہ ایک ’سٹیٹس سمبل‘ یا امارت کی نشانی بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنگلی حیات کا ٹھکانہ تو جنگل ہے۔ جنگل کے باسی کو پنجرے میں بند کر کے اس کی ساری زندگی کو اذیت ناک بنا دیا جاتا ہے۔
’کسی بھی جاندار کو بغیر کسی وجہ کے قید کر دینا یا قید ہی میں رکھنے کے لیے اس کی افزائش نسل، کیا اس سے بڑا کوئی اور ظلم بھی ہوسکتا ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ ’جنگلی حیات کا تحفظ حکومتوں پر لازم ہے۔ انسانی زندگی میں بھی ان جنگلی حیات کا بڑا کردار ہے۔ جن کے تحفظ کے لیے قدرتی ماحول، جنگلات اور ان کے مسکن محفوظ کرنا چاہیے۔ یہ ہی وقت کی ضرورت ہے، بریڈنگ فارمز، چڑیا گھر، سفاری پارکوں کی کوئی ضرورت نہیں۔‘
تاہم بدر منیر کا کہنا تھا کہ بریڈنگ فارمز صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہیں اور یہ نایاب اور خطرے کا شکار جنگلی حیات کی نسلوں کو بچا رہے ہیں۔
’لاہور کے بریڈنگ فارمز پر کچھ سال پہلے انتہائی نایاب کوگر یا پوما منگوایا گیا تھا۔ اب وہ خود اس کی افزائش نسل کر رہے ہیں۔ یہ ہماری بڑی کامیابی ہے۔
’اب ہم بھی اس بات کی تیاری کررہے ہیں کہ بریڈنگ فارمز میں جن جنگلی جانوروں کی مناسب تعداد موجود ہے انھیں ان کے قدرتی مسکن میں چھوڑا جائے تاکہ قدرتی ماحول میں بھی ان کی جو کمی پیدا ہو چکی ہے وہ پوری کی جا سکے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close