نواز شریف کا چودھری نثار سے ملاقات سے انکار

مشکل وقت میں ن لیگ سے لاتعلقی اختیار کرکے اسٹیبلشمنٹ کے جوتے پالش کرنے والے چوہدری نثارعلی خان کی سیاست میں متحرک ہونے کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب لندن پہنچنے پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے ان سے ملاقات کرنے اور انہیں پارٹی میں واپس لینے سے انکار کر دیا۔
آزاد حیثیت سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے والے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان نے تین سال بعد پنجاب کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے دوبارہ سے نون لیگ میں شمولیت اختیار کرنے کی کوشش کی مگر لندن سے آنے والی اطلاعات کے مطابق نوازشریف نے انہیں ٹھینگا دکھا دیا ہے۔
چوہدری نثار علی خان اور مسلم لیگ نون میں خلیج تین سال قبل اس وقت پیدا ہوئی جب وزیراعظم نواز شریف کو پانامہ اسکینڈل میں نااہل کیا گیا اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف سیاسی طور پر متحرک ہو گئیں۔ تاہم نثار نے نواز شریف اور مریم کی مزاحمتی سیاست کی سخت مخالفت کی اور اسٹیبلشمنٹ کا ماؤتھ پیس بنتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ کسی صورت مریم نواز کی قیادت میں کام نہیں کر سکتے۔
بعد ازاں چودھری نثار علی خان اپنے عہدے سے بھی مستعفی ہوگئے اور عام انتخابات 2018 میں آزاد حیثیت سے تین حلقوں میں الیکشن لڑا مگر قومی اسمبلی کی دونوں سیٹوں پر ہار گئے۔ نثار صرف پنجاب اسمبلی کی نشست جیت پائے جس پر انہوں نے تاحال حلف نہیں اٹھایا۔
چوہدری نثار علی خان اب سے کچھ عرصہ قبل تک یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کا عملی سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں مگر جونہی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت مشکلات کا شکار ہوئی اور سیاسی پنڈتوں نے پیشگوئیاں کرنا شروع کیں کہ چوہدری نثار علی خان نون لیگ میں دوبارہ شامل ہوکر حلف اٹھانے کے بعد وزارت اعلی کے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں تو نثار اچانک متحرک ہوگئے اور علاج کی غرض سے لندن میں مقیم نواز شریف سے ان کی طبیعت پوچھنے، بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیت کرنے اور آئندہ سیاست میں متحرک ہونے کے حوالے سے ملاقات کرنے کے لیے کمربستہ ہو گئے۔
کہا جاتا ہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور شہباز شریف چاہتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان دوبارہ سے نون لیگ کے پلیٹ فارم سے متحرک ہوں اور پنجاب کی سیاست میں اہم کردار ادا کریں مگر چوہدری نثار علی خان کے ارمانوں پر اس وقت اوس پڑی جب نون لیگ کے قائد میاں نوازشریف نے ان سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کردیا اور پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ ان کی اہلیہ کو گزرے اب ایک سال سے زائد گزر گیا اس لئے نثار جو تعزیت کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے پاس ہی رکھیں۔ یعنی اب چوہدری نثار کو کسی صورت معافی ملنے کا کوئی امکان نہیں یے۔
دوسری طرف چوہدری نثار علی خان کی آزاد حیثیت اور اپنے علاقے میں اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ماضی میں عمران خان انہیں پارٹی کا حصہ بنانا چاہتے تھے لیکن وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان جنہوں نے چوہدری نثار کو عام انتخابات میں ہرایا، کسی صورت نہیں چاہتے کہ نثار تحریک انصاف کا حصہ ہوں۔ لہذا اس صورتحال میں لگتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کو نا تو نون لیگ قبول کرے گی اور نہ ہی تحریک انصاف پارٹی میں بغاوت کے ڈر سے انہی اپنی جماعت کا حصہ بنائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close