حکومت کا آئی ایم ایف کو گیس قیمتوں میں اضافے سے صاف انکار

حکومت نے گیس کی قیمت میں اضافے پر عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے معذرت کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوری طور پرگیس کی قیمت بڑھا کر عوام پرمزید بوجھ نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی کوئی منی بجٹ لائیں گے.
آئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف میں کمی کے حوالے سے ایف بی آر کی درخواست منظور کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اپنے اخراجات اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں سو ارب روپے کمی کرے گی جبکہ اداروں کی نجکاری سے آمدنی میں اضافے کیلئے عملی اقدامات کرے گی.آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی کا نیا ہدف باون کھرب اڑتیس ارب سے کم کر کے اڑتالیس کھرب روپے کر دیاہے،جس کے بعد حکومت کی طرف سے نظرثانی شدہ ہدف کے حصول کے لئے پٹرولیم ڈویلمنٹ لیوی میں اضافے کا امکان ہے۔جس سے80 سے سو ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت آئی ایم ایف کی بجلی مزید مہنگی کرنے کی تجویز بھی مسترد کر چکی ہے۔ توانائی اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے دوران وزارت توانائی کی کارکردگی، بجلی ٹیرف اور لائن لاسز پر ایف آئی اے حکام کوبریفنگ دی گئی۔ مذاکرات میں وزارت توانائی اور آئی ایم ایف کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وزارت توانائی نے کہا کہ بجلی نرخوں کو 18ماہ کیلئے منجمد کرنا چاہتے ہیں، صنعتی شعبے کے لیے بجلی ٹیرف پیکج لانا چاہتے ہیں۔ حکام نے آئی ایم ایف کو بجلی مہنگی کرنے پر صاف جواب دے دیا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نقصانات کم کرنے کا متبادل پلان دیں گے۔ موجودہ حالات میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کرسکتے۔ بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے بجلی ٹیرف منجمد کرنے کی تجویز پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ خیال رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے تجویز رکھی تھی جس کے تحت فیول ایڈجسٹمنٹ کے حساب سے بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ماہانہ کی بجائے سالانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close