کپتان کا سبسڈی کا اعلان عوام کو ماموں بنانے کے سوا کچھ نہیں

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے غریب اور سفید پوش طبقے کو بڑھتی مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے دس ارب روپے کی سبسڈی دینے کے اقدام کو معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے بھونڈا مذاق قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی نہیں آئے گی البتہ حکمران اپنی کرسی بچانے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی سے تنگ عوام کو ریلیف دینے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے دس ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے جس پیکیج کی منظوری دی اس کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز پر گندم، چینی ، چاول، دالوں، اور گھی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے آئندہ پانچ ماہ تک دو ارب روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔ یوٹیلٹی سٹورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوام کو آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 800 رپے، چینی 70 روپے کلو، گھی 175 روپے فی کلو فراہم کیا جائے جبکہ چاول اور دالوں کی قیمتوں میں 15 سے 20 روپے تک کمی کو یقینی بنایا جائے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت افراطِ زر کی شرح 14 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ اشیائے خوردونوش میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد سے بڑھ چکی ہے۔ اس صورتحال میں ماہرین اقتصادیات و معاشیات ان حکومتی اقدامات کو ناکافی اور عارضی ریلیف سمجھتے ہیں اور بعض تو اس کو کرسی بچاؤ مہم تک قرار دے رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق سبسڈی مالی یا غیر مالی مد میں دی جانے والی وہ رعایت ہوتی ہے جس کا مقصد معاشی شعبے، اداروں، تجارت اور شہریوں کی معاشی اورسماجی پالسیوں کو استحکام دینا ہوتا ہے۔ یہ سبسڈی پیداواری اداروں اور صارفین دونوں کو ہی دی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی بہت بڑھ چکی ہو اور اس سے نچلا طبقہ متاثر ہو رہا ہو تو اس صورتحال میں حکومتیں سبسڈی دے کر عوام کی مشکلات میں کمی لاتی ہیں تاکہ محروم طبقے کو ریلیف دیا جا سکے۔ تاہم معروف معاشی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ بغیر نظام یا پالیسی بنانے کے سبسڈی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔موجودہ وقت میں جو سبسڈی دی جارہی ہے اس میں مارکیٹ فیکٹرز کو دیکھا جارہا ہے جبکہ مارکیٹ میں اس وقت بگاڑ ہے۔ حکومت نے جو سبسڈی دی ہے اس سے پیداوار تو اسی ریٹ پر مارکیٹ میں آئی ہے لیکن اس میں سپلائی روک کر طلب بڑھائی جاتی ہے جس وجہ سے قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس سبسڈی کا اثر قلیل مدتی ہو گا اور کوئی زیادہ ریلیف نہیں مل سکے گا۔ قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد بہت کم ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے اور بہت سارے سٹور تو امیر علاقوں میں قائم ہیں جہاں غریب آدمی کی پہنچ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص سٹور سے ایک من چینی خرید لے تو اس کی روک تھام نہیں ہے۔ خاص طور پر ریستوران اور بیکری والے بڑی مقدار میں اشیا لے کر چلے جاتے ہیں۔ غریب آدمی بڑی مقدار میں خریداری نہیں کر سکتا۔ وہ ایک پاؤ اور کلو کے حساب سے خریداری کرتا ہے کیونکہ ان میں قوت خرید نہیں ہوتی اس صورتحال میں ایک پالیسی بنانی چاہیے کہ ہم تقسیم کس طرح سے کریں گے۔
ماہر معاشیات اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ اگر معیشت کا پہیہ چل ہی نہیں رہا تو سبسڈی بھی بےسود ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس ملازمت ہی نہیں ہوگی تو آپ چیز خریدیں گے ہی کیسے چاہے وہ مہنگی ہو یا سستی۔ جس طرح سے معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں اور مزید ہو رہے ہیں انہیں اس سبسڈی سے کیا فائدہ ہو گا۔ ان کے پاس دو وقت کھانے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ آخر کتنے لوگوں کو سبسڈی پر رکھیں گے۔ حکومتوں کے پاس غربت کے خاتمے کے لیے پروگرام کا آپشن ہوتا ہے، اگر یہ سبسڈی نہیں دیں گے تو یہ حکومت چلی جائے گی۔ سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دراصل یہ سبسڈی نہیں کرسی بچاؤ مہم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close