کیا کرونا وائرس پاکستان سے بذریعہ پینگولین چین پہنچا؟

چینی سائنسدانوں کی طرف سے کرونا وائرس پھیلنے کا سبب قرار دیا جانیوالا قیمتی ترین اور نایاب چیونٹی خور جانور پینگولین پاکستان میں عام پایا جاتا ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے بڑی تعداد میں چین سمگل ہو رہا ہے۔ لہذا غالب امکان ہے کہ چین میں تباہی مچانے والا کرونا وائرس پاکستانی پینگولن کے ذریعے وہاں پہنچا ہو اور وہاں سے یہ انسانوں میں منتقل ہو گیا ہو۔
پینگولن جسے اردو میں چیونٹی خور کہا جاتا ہے پاکستان کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی سب سے بڑی تعداد پوٹھوہار کے علاقے، خاص طور پر چکوال میں پائی جاتی ہے۔ اس جانور کا گوشت بہت مہنگا ہوتا ہے اورچینی لوگ اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ چینی لوگ اس نایاب جانور کو مختلف ممالک سے درآمد کرتے ہیں جن میں پاکستان سرفہرست شامل ہے۔ پاکستانی ایک پینگولین کو 25 ہزار کے عوض بیچتے ہیں جبکہ چین پہنچ کر یہی جانور اپنی کھال پر لگے چھلکوں کی وجہ سے دس لاکھ کا ہو جاتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان سے پینگولن کی غیر قانونی سمگلنگ میں کافی اضافہ ہوا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے جن جانوروں کی غیر قانونی سملگلنگ ہوتی ہے، ان میں سب سے بڑی تعداد پینگولن کی ہے۔
پاکستان وائلڈ لائف کنزرویشن فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین صفوان شہاب احمد کے مطابق چند سال پہلے تک پاکستان کسٹم پینگولن کی سمگلنگ کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرتا تھا مگر اب اس تجارت سے وابستہ پیسے کی طاقت کے آگے سارے ادارے بے بس ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک پینگولن 25 ہزار کا بکتا ہے جو چین پہنچ کر دس لاکھ کا ہو جاتا ہے۔ جبکہ اس کی کھال پر لگے ہوئے چھلکوں کی قیمت چینی مارکیٹ میں ساڑھے چار لاکھ روپے کلو تک ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وائلڈ لائف والے کہیں چھاپہ مارتے بھی ہیں تو چھلکوں کی 80 فیصد تعداد راستے میں ہی غائب کر دی جاتی ہے اور کاغذی کارروائی پور ی کر دی جاتی ہے۔ان کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف کے قوانین ابھی تک وہی پرانے ہیں اور پینگولن کے پکڑنے پر 15 ہزار جرمانہ یا چھ ماہ قید ہے جبکہ انڈیا میں پینگولن پکڑنے پر 20 سال قید یا دو کروڑ جرمانے کی سزا ہے۔
پینگولن ایک نہات ماحول دوست جانور ہے یہ چیونٹیاں اور دیمک کھاتا ہے لیکن گزشتہ سالوں میں اس کے غیر قانونی کاروبار کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں اس کی تعدا د میں 90 فیصد، پنجاب میں 80 فیصد اور آزاد کشمیر میں 50 فیصد تک کمی آ چکی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں جنگلوں کو دیمک کھا رہی ہے۔صفوان شہاب نے بتایا کہ ان علاقوں میں جانے سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں دس دس فٹ تک درختوں پر دیمک چڑھ چکی ہے، اور پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کے جنگلات دیمک کی وجہ سے مر رہے ہیں اور شاید اگلے چند سالوں میں یہ بالکل ہی ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے چین میں پینگولن کی غیر قانونی سمگلنگ بڑے منظم چینلز کے ذریعے ہو رہی ہے اور مافیا نے اس میں پکھی واسوں کو لگایا ہوا ہے جو پینگولن کو پکڑتے ہیں پھر اس کا گوشت اور اس کے جسم پر لگے چھلکوں کو الگ الگ کرتے ہیں۔ اس مافیا کی سرپرستی کرنے والوں میں محکمہ وائلڈ لائف اور کسٹم کے حکام بھی شامل ہیں۔اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں محکمہ وائلڈ لائف کا اعزازی وارڈن ایک بین الاقوامی شکاری کو لگایا گیا ہے، اسی طرح 18ویں ترمیم کے بعد وائلڈ لائف کا محکمہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اور صوبے وفاق کی مانتے ہی نہیں، وفاق چونکہ ان عالمی معاہدوں کا دستخط کردہ ہے جن کی رو سے نایاب جانوروں کی نسلوں کے تحفظ اس کی ذمہ داری ہے مگر وہ اپنی ذمہ داری صرف صوبوں کو خط لکھنے تک محدود کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پینگولن کی آبادی تیزی سے معدوم ہو رہی ہے اور صرف گزشتہ تین سالوں میں اس کی تعداد میں 84 فیصد کمی آ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں حکومت پاکستان کو فوری اقدامات کرتے ہوئے پینگولن کا غیر قانونی شکار اور اس کی سمگلنگ روکنا ہو گی۔ وہیں لوگوں میں پائے جانے والے مغالطے بھی ختم کرنا ہوں گے کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قبرستانوں سے مردے نکال کر کھا جاتا ہے حالانکہ اس کی خوراک صرف چونٹیاں اور دیمک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close