حکومت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑا حملہ

حکومت نے خاموشی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑا حملہ کر دیا. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے منظوری لئے بغیر صرف کابینہ کی منظوری سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ پھیلانے والوں کیخلاف وزارت آئی ٹی کے رولز نوٹیفائی کر دئیے گئے.
حکومت نے انتہائی خاموشی سے سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے نئے قوانین بنالیے ہیں اور وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا قوانین کی منظوری بھی دے دی ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی آئی ٹی کے سینئر حکام نے قانونی مسودہ کی منظوری کی تصدیق کردی ہے. ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا قواعد میں ترمیم کردی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا کو پابند کرنے سے متعلق قوانین کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی ضرورت نہیں ہے. آئی ٹی کے منظور کردہ رولز کے مطابق فیس بک، یوٹیوب، ٹوئٹر، ڈیلی موشن،ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تین ماہ میں اسلام آباد میں اپنے آفس بنانے کا پابند بنایا گیا ہے. رولز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر متنازعہ مواد، پروپیگنڈے کے کنٹرول کیلئے اتھارٹی بنائی جائے گی. کوئی بھی شخص یا ادارہ متنازعہ آن لائن مواد کیخلاف شکایت درج کروا سکے گا. نئے قانون کے مطابق کسی بھی پروپیگنڈے، نقصان پہنچانے والے مواد کی شکایت درج کروائی جاسکے گی.
شہری آن لائن ہراسیت، شہرت کو نقصان پہنچانے کیخلاف شکایت کرا سکیں گے. نئے قانون کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو6 سے 24 گھنٹے کے اندر متنازعہ مواد ہٹانا ہوگا، سوشل میڈیا کمپنیاں تحقیقاتی ایجنیسوں کومکمل معلومات فراہم کرنے کی پابند ہونگی.حکم نہ ماننے پر چیئرمین اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنی کی بندش کرسکے گا جبکہ اتھارٹی کو سوشل میڈیا کمپنوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا بھی حق حاصل ہو گا.شوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران منفی مواد کی اجازت نہیں ہو گی. جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے بھی کمیٹی بنائی جائے گی.
ذرائع نے بتایا ہے کہ نئے قوانین کے مطابق تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی 3 ماہ میں پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے جس کے تحت یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، ٹِک ٹاک اور ڈیلی موشن سمیت دیگر تمام کمپنیوں کو 3 ماہ میں رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ نئے قواعد کی رو سے تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے 3 ماہ میں اسلام آباد میں اپنا دفتر قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ان پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔
نئے قوانین کے تحت یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پربنائے جانےوالے مقامی پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن کرانا بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال میں پاکستان میں اپنے ڈیٹا سرورز بنانے ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے قومی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو سکے گی۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کو آرڈینیشن اتھارٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ اتھارٹی ہراسانی، اداروں کو نشانہ بنانے اور ممنوعہ مواد کی شکایت پر اکاؤنٹ بند کر سکے گی ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن بھی لیا جائے گا اور اگر کمپنیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کی سروسز معطل کر دی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق اگر کمپنیوں نے قواعد پر عمل نہ کیا تو 50 کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
اس حوالے سے حکام وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنادیاگیا ہے اور ان پر عمل درآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔آئی ٹی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ادارے قابل اعتراض مواد پر کارروائی کرسکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close