آٹے کے بعد ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوگیا

کپتان کے زیر سایہ پہلے پاکستانی عوام آٹے سے محروم ہوئے اور اب چینی بھی ان کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے۔ عمران خان کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ملک مسلسل بحرانوں کا شکار ہے، اب وقت آٹے کے بعد چینی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے جو کہ عوام کی دسترس سے بہت دور چلی گئی ہے۔
حکومت نے اپنی صفوں میں شامل چینی مافیا کو پکڑنے کے بجائے دیگر تاجروں کے مختلف گوداموں پر چھاپے مارکر چینی کی رسد کو مارکیٹ میں بحال کرنا شروع کردیا ہے۔ لاہور کے علاقے رائیونڈ کے اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید کا کہناہے کہ ’پچھلے ایک ہفتے میں ہم نے تقریباً 35 ایسے گوداموں پر چھاپے مارے ہیں جہاں سے چینی برآمد ہوئی۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی گودام تھے جہاں چینی ذخیرہ نہیں کی گئی تھی بلکہ وقتی طور پر رکھی گئی تھی البتہ کچھ ایسے گودام بھی ملے جہاں چینی ذخیرہ تھی ایسی چینی کی سات ہزار بوریاں مارکیٹ میں لائی گئی ہیں۔‘
دوسری طرف چینی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ان حکومتی اقدامات کو غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ذخیرہ اندوزی کی تعریف بتائے۔ شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا ایوب کے مطابق حکومت صورت حال کو کیسے قابو کرنا چاہتی ہے ان کو اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔ ’حکومت نے چینی کا ریٹ 70 روپے مقرر کر رکھا ہے۔ ہمیں چینی 77 روپے کلو مل رہی ہے، ہم کیسے 70 روپے میں بیچ سکتے ہیں؟ ایک تو حکومت مہنگی خریدی گئی چینی کو سستا بیچنے کےلیے دباؤ ڈال رہی اور دوسرا چھاپوں کا غیر قانونی سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اور خراب ہو گا۔‘
حکومت چینی کے بحران کو قابو کرنے کےلیے اپنے طور پر جو اقدامات کر رہی ہے ان سے تاجر بظاہر خوش دکھائی نہیں دیتے اور اپنے مطالبات میں انہوں نے حکومت سے ذخیرہ اندوزی کی تعریف اور اس کا تعین کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق تھوک کا کاروبار کرنے والے تاجر اپنے چھوٹے چھوٹے گوداموں میں اضافی سامان رکھتے ہیں اور ان کے گوداموں کو سیل نہیں کر سکتی۔ لاہور میں انڈسٹریز کے ضلعی آفیسر اظہر حسین گجر کا کہناہے کہ اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے بلکہ قانون بالکل واضع ہے۔ ’پرائس کنٹرول اینڈ ہولڈنگ ایکٹ 1977 جو کہ سیدھا سیدھا ذخیرہ اندوزی سے متعلق ہے اس کے مطابق کوئی بھی تاجر اگر اپنی دکان کے علاوہ کسی دوسری جگہ اپنا سامان رکھتا ہے چاہے اس کی مقدار جتنی بھی ہو وہ تحریری طور پر ڈپٹی کمشنر آفس کو بتانے کا پابند ہے اور یہی ذخیرہ اندوزی کی تعریف ہے یعنی چاہے آپ نے سو بوری رکھی ہوئی ہے یا سات ہزاراگر ڈپٹی کمشنر آفس میں اس کا ریکارڈ نہیں تو وہ ذخیرہ اندوزی ہی ہو گی۔
رائیونڈ کے اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید کے مطابق جن 35 گوداموں پر انہوں نے چھاپے مارے ان میں ایسے گودام بھی تھے جن میں ایک دن پہلے چینی آئی تھی اور ان کے پاس اس کا ریکارڈ تھا ان کو کچھ نہیں کہا گیا۔ ’ہم نے صرف ان گوداموں کو بند کیا جن کے مالکان کے پاس اس چینی کے وہاں لائے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ اور ایسا نہیں کہ ہم نے وہ گودام بند کر دیے اور بحران پیدا ہو۔ بلکہ ہم اب اپنی نگرانی میں اس چینی کو سرکاری نرخوں پر مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں۔ اس وقت حکومت صرف تاجروں کو احساس دلوا رہی ہے تاکہ مزید بحران سے بچا جا سکے۔

ڈی او انڈسٹریز لاہور اظہر حسین گجر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس وقت چینی مہنگی ہونے کا تعلق ذخیرہ اندوزی سے اتنا زیادہ نہیں ہے بلکہ چینی کی ملوں سے جس ریٹ پر چینی باہر آ رہی ہے وہ حکومت کی تجویز کردہ نرخوں سے زیادہ ہے تو لامحالہ تاجر اس کو سرکاری ریٹ پر نہیں بیچ سکتے۔ اس کا فوری حل صرف ایک ہی ہے کہ ’چینی جہاں بھی پڑی ہے اسے مارکیٹ میں لایا جائے تاکہ سپلائی زیادہ ہو جس سے خود بخود ریٹ نیچے آ جائے گا یہی وجہ ہے کہ حکومت چینی کے ذخیروں کو ریگولیٹ کر رہی ہے۔ تاہم شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن ان حکومتی اقدامات کو تاجر کش قرار دے رہی ہے انجمن تاجران کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے تاکہ تاجر اس دباؤ سے باہر نکل سکیں۔
آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میر کا کہنا ہے کہ ’چینی کے عمل میں پنجاب کے تین سیکرٹریز کا دائرہ اختیار ہے جن میں فوڈ، انڈسٹریز اور زراعت کے سیکرٹریز شامل ہیں، جمعرات 13 فروری کو ان تمام سیکرٹریز کے ساتھ اکھٹی ملاقات ہے جس میں انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close