اسحاق ڈار کے گھر بنائی پناہ گاہ کنٹینروں میں منتقل

پنجاب حکومت نے عدالتی احکامات کے بعد سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ ہجویری ہاؤس لاہور میں غریب اور نادار افراد کے لیے بنائی گئی پناہ گاہ ختم کرتے ہوئے اسکے مکینوں کو گھرکے سامنے عارضی پارک میں کنٹینرز رکھ کر ان میں منتقل کردیا ۔
سرکاری عملے نے اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کے اندر دو راتیں گزارنے والےبے گھر افرادکا سامان نکال کر کنٹینروں میں منتقل کردیا جبکہ پناہ گاہ کے بینرز بھی عمارت سے ہٹا کر کنٹینروں پر لگا دیےگئے ہیں۔ان کنٹینروں میں20سے 25 افراد کے سونے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ عارضی واش روم اور بجلی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہےلیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخر یہ عارضی پناہ گاہ ان کنٹینروں میں کب تک قائم رہے گی؟
IMG-2223.jpgاس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان رانجھا نے اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ سے فوری پناہ گاہ کا سامان نکال کر کنٹینروں میں منتقل کرنے کو ایک ’چیلنج‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ راتوں رات کنٹینرز کا انتظام کیا گیا اور سامان منتقل کرکے وہاں بے گھر افراد کو ٹھہرایا گیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کنٹینرز کہاں سے آئے اور پارک میں کب تک پناہ گاہ قائم رہے گی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ دو ہفتوں کا عارضی بندوبست ہے، ہم کوئی سرکاری جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ آس پاس جہاں بھی کوئی مناسب جگہ ملے گی اس پناہ گاہ کو وہاں منتقل کردیا جائے گا کیوں کہ یہاں اہل علاقہ کے بھی تحفظات ہیں۔کنٹینروں کے حوالے سے سوال پر اسسٹنٹ کمشنر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فوری انتظام کے لیے جہاں سے ملے لے لیے، بعد میں ان کا کرایہ دینے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ٹینٹ وغیرہ لگانے سے موسمی اثرات کے پیش نظر مشکلات پیش آسکتی تھیں اس لیے کنٹینروں میں پناہ گاہ قائم کی گئی ہے۔ تاہم کنٹینر کے مکین اور اہلِ علاقہ اس حوالے سے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بھلا کنٹینروں سے پارکوں میں بھی پناہ گاہیں بنتی ہیں؟ پتہ نہیں حکومت کو یہ مشورے کون دیتا ہے۔ اسحٰق ڈار کے گھر کی نیلامی روکے جانے کے بعد یہاں پناہ گاہ قائم کرنا بے گھر لوگوں سے مذاق ہے کیوں کہ جب عدالت نے گھر فروخت کرنے سے روک دیا تو اسے کسی اور طرح سے استعمال کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟

IMG-2217.jpgیاد رہے کہ حکومت پنجاب احتساب عدالت کے حکم پر کچھ عرصہ قبل اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کی نیلامی کرنا چاہتی تھی لیکن سابق وزیر خزانہ کی اہلیہ کی جانب سےاسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ گھر ان کے نام ہے لہذا حکومت نیلامی یا اس کا استعمال نہیں کر سکتی۔جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نیلامی روکنے کا حکم دیا۔ تاہم حکومت نے کچھ دن بعد یہاں پناہ گاہ قائم کردی، جس پر اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تو عدالت نے ایک بار پھر حکومت کو اس گھر میں قائم عارضی پناہ گاہ ختم کرنے کا حکم دیا اور یوں دو دن بعد ہی یہ رہائش گاہ سرکاری اہلکاروں کی مدد سے خالی کرانا پڑی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close