بلاول کو سپریم کورٹ نے بے گناہ نہیں معصوم کہا تھا

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بلاول بھٹو زرداری کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو سپریم کورٹ نے بے گناہ نہیں معصوم کہا تھا جو شیخ رشید بھی انہیں کہتے رہتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے بلاول بھٹو زرداری کے نیب میں طلب کرنے سے متعلق سوال پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘بلاول کہتے ہیں مجھے کیوں بلایا گیا، ان کو مختلف کیسز کی تحقیقات کے لیے نیب نے طلب کیا تھا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘بلاول کو نیب نے جے وی اوپل اور اوپل 225 کیس میں تحقیقات کے لیے بلایا تھا جو سپریم کورٹ کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے نیب کے حوالے کیا تھا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘جے وی 225 کیس میں ان پر الزام ہے کہ زرداری گروپ آف کمپنیز نے اس کمپنی کے اکاؤنٹ میں ایک ارب 25 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے’۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘بلاول کی طرح میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا، یہ الزام ہی ہے جسے ثابت ہونا ہے، آپ عدالتوں میں جائیں تاہم اس سے قبل آپ کو تحقیقاتی ایجنسیوں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا’۔ انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ‘بلاول نے منی لانڈرنگ کی رقوم سے جائیدادیں بنائیں، ٹنڈو الہ یار میں ان پیسوں سے زرعی زمین خریدی گئی، کلفٹن میں 5 پلاٹ خریدے گئے جن کو بلاول ہاؤس کا حصہ بنایا گیا، لاہور میں بلاول ہاؤس تعمیر کیا گیا اور دیگر زمینیں بھی خریدی گئیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بلاول گمراہ کرتے ہیں کہ میں اس وقت 7 سال کا بچہ تھا تو انہیں بتانا چاہوں گا یہ جائیدادیں 2011 سے 2014 کے درمیان خریدی گئیں جب ان کے والد صاحب صدر مملکت تھے، ان کی پوچھ گچھ کے لیے بلاول کو بلایا گیا تھا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘بلاول کہتے ہیں کہ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ بلاول بے گناہ ہیں، کس عدالت نے ایسا کہا تھا، ان کو کسی عدالت نے بے گناہ نہیں کہا تھا بلکہ انہیں معصوم کہا تھا، جو انہیں شیخ رشید بھی کہتے رہتے ہیں’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘عدالت نے مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں خلل پڑے گا جس کی وجہ سے ان کا نام فی الحال ای سی ایل سے نکالا جائے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے نیب کی تحقیقات پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیے، نیب اس تمام معاملے کی تفتیش کرے گی اور اس کے بعد اگر اس نتیجے پر پہنچی کہ آپ نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ وفاقی حکومت سے درخواست کرکے ای سی ایل میں نام بھی ڈلواسکتی ہے’۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری آپ ‘ان ٹچ’ نہیں ہیں کہ آپ کو کسی ادارے میں بلا کر سوال نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ‘اس سے قبل جب بلاول نیب آئے تھے تو انہوں نے بتایا تھا کہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں شامل نہیں ہوئے اور جب یہ اجلاس ہوا اس وقت وہ پاکستان سے باہر تھے تاہم جب تصدیق کی گئی تو پتہ چلا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دستاویزات پر ان کے دستخط بھی تھے اور آئی بی ایم ایس ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ آپ اس وقت ملک میں ہی تھے’۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے سفید جھوٹ بولا جس کی وجہ سے انہیں دوبارہ بلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عام شخص پولیس کے سامنے جھوٹ بولے تو اسے جیل میں بند کردیا جاتا ہے اور یہ تو نیب کے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘تفتیش کاروں کو اگر تمام چیزیں دے دی جائیں اور وہ آپ کو کلیئر کردیں تو آپ آزاد ہوں گے، قانون سے کوئی بھی مبرا نہیں، تحقیقات کے لیے پیش ہونا پڑتا ہے’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘تفتیش کار طلب کرتے ہیں، وہ ریکارڈ سامنے رکھتے ہیں اور ملزم کا ورژن لیتے ہیں جو ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے جس کے بعد اگر انہیں کچھ غلط لگتا ہے تو وہ ریفرنس بنا کر عدالت لے کر جاتے ہیں’۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے نیب راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سال سے زائد عرصہ قبل چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بے گناہ ہے اس کے باوجود میں آج ان اتھارٹیز کے سامنے پیش ہوا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری غلط فہمی تھی ہم نے سوچا تھا کہ نیب والے ایک سال کے بچے پر کیس نہیں بنائیں گے، میں 7 سال کا تھا جب اس کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا تھا، ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ جب چیف جسٹس نے پورے ملک کے سامنے کہہ دیا تھا تب بھی یہ سیاسی انتقام جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close