نئے سوشل میڈیا قوانین، آزادی اظہار پر ایک اور بڑا حملہ

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کی آزادی پر شب خون مارتے ہوئے ایک ہی دن میں ایسے متنازع قوانین نافذ کردیئے گئے ہیں جن کی مہذب دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے کپتان حکومت کی جانب سے لاگو کردہ ان متنازع ترین قوانین سے نہ صرف پاکستان کا عالمی تشخص بری طرح مجروح ہو گا بلکہ ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آنے والا کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی رک جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کے ایما پر کیا گیا جنہوں نے پچھلے دنوں اپنی بنی گالہ رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگوکے دوران سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویہ پر تنقید کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ وہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے غیر مصدقہ خبریں چلاتا ہے اور اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے پاکستان کا امیج پہلے ہی بہت منفی ہے اور اب سوشل میڈیا پر بے سروپا اور متنازعہ پابندیاں لگانے سے عالمی سطح پر یہ امیج مزید خراب ہو گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کپتان حکومت نے انتہائی خاموشی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ بڑا حملہ کیا اور اس حوالے سے کسی بھی متعلقہ ادارے سے پیشگی مشورہ کرنا بھی گورا نہیں کیا۔ پاکستان میں سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ لانے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریاستی کنٹرول کا پابند بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے منظوری لئے بغیر صرف کابینہ کی منظوری سے سوشل میڈیا کیخلاف وزارت آئی ٹی کے رولز نوٹیفائی کر دئیے گئے ہیں جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی آئی ٹی کے سینئر حکام نے قانونی مسودہ کی منظوری کی تصدیق کردی ہے .
یاد رہے کہ آئی ٹی کے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی پچھلے ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں اور ان کے علم میں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیوں کے قوانین کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہے.
آئی ٹی کے منظور کردہ رولز کے مطابق فیس بک، یوٹیوب، ٹوئٹر، ڈیلی موشن اور ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تین ماہ کے اندر اندراسلام آباد میں اپنے آفس بنانے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ وہ سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والے مواد کے حوالے سے حکومت پاکستان کو جواب دے سکیں۔ رولز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر متنازعہ مواد، پروپیگنڈے کے کنٹرول کیلئے ایک اتھارٹی بھی بنائی جائے گی. کوئی بھی شخص یا ادارہ متنازعہ آن لائن مواد کیخلاف شکایت درج کروا سکے گا.
وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق سوشل میڈیا کی نگرانی پر مبنی نئے قوانین سے سکیورٹی اداروں، ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو کنٹرول کیا جا ئے گا۔ نئے قانون کے مطابق کسی بھی طرح کے پروپیگنڈےیا نقصان پہنچانے والے مواد کی شکایت درج کروائی جاسکے گی. شہری آن لائن ہراسیت یا شہرت کو نقصان پہنچانے کیخلاف اتھارٹی کو شکایت درج کرا سکیں گے. نئے قانون کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو 6 سے 24 گھنٹے کے اندر متنازعہ مواد ہٹانا ہوگا، یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کمپنیاں تحقیقاتی ایجنیسوں کو مانگی جانے والی ہر طرح کی مکمل معلومات فراہم کرنے کی پابند ہونگی. حکم نہ ماننے پر چیئرمین اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنی کی بندش کرسکے گا جبکہ اتھارٹی کو سوشل میڈیا کمپنوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا بھی حق حاصل ہو گا.
نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران منفی مواد کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے بھی کمیٹی بنائی جائے گی. نئے قوانین کے مطابق تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی 3 ماہ کے اندر نہ صرف اسلام آباد میں اپنا دفتر قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے بلکہ ان پر پاکستان میں فوکل پرسن یعنی رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال میں پاکستان میں اپنے ڈیٹا سرورز بنانے ہوں گے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کو آرڈینیشن اتھارٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اتھارٹی ہراسانی، اداروں کو نشانہ بنانے اور ممنوعہ مواد کی شکایت پر اکاؤنٹ بند کر سکے گی ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن بھی لیا جائے گا اور اگر کمپنیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کی سروسز معطل کر دی جائیں گی۔
باخبر ذرائع کے مطابق اگر متعلقہ بین الاقوامی کمپنیوں نے نئے قواعد پر عمل نہ کیا تو انہیں 50 کروڑ روپے تک کا جرمانہ ہوگا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی کمپنیوں سے یہ جرمانہ وصول کرنے کے لئے کیا طریقہ کار اپنائے گی۔ اس حوالے سے وزارت آئی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنادیاگیا ہے اور ان پر عمل درآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔ آئی ٹی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ادارے قابل اعتراض مواد پر کارروائی کرسکیں گے۔ صارفین کے ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے منفرد اور متنازع ترین سوشل میڈیا قوانین متعارف کرائے گئے ہیں اور دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس قدر سخت قوانین موجود نہیں۔ آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے پاکستان کے فری لانسرز اور بڑے ادارے سالانہ کم از کم 50 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ لاتے ہیں اور آئندہ چند برسوں میں یہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو زنجیروں میں جکڑنے کی منصوبہ بندی کے بعد پاکستان اس خطیر زرمبادلہ سے محروم ہو جائے گا۔
صحافی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے پاکستان کا امیج بہت منفی ہے اور اب سوشل میڈیا پر بے سروپا اور انتہائی متنازعہ اور مضحکہ خیز پابندیاں لگانے کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر اب ایک غاصب ریاست کے طور پر جانا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مین سٹریم میڈیا پرریاستی اداروں کی گرفت مضبوط ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہی عوام اپنی آزادی اظہار رائے کا استعمال کررہے تھے لیکن اب قومی سلامتی اور وسیع تر قومی مفاد کے نام پر سوشل میڈیا کا گلہ بھی دبا دیا گیا ہے تاہم تحریک انصاف حکومت کا یہ اقدام ملکی تشخص اور معیشت پر ایک کاری ضرب کے سوا کچھ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close