حکومت گرفتار نہ کرے تو مریم سیاست شروع کر سکتی ہیں

سابق گورنر سندھ محمد زبیرکا ایک انٹرویو میں کہنا ہے کہ اگر حکومت دوبارہ گرفتار نہ کرنے کی ضمانت دے تو مریم نواز دوبارہ بھرپور طریقے سے سیاست شروع کردیں گی۔
یاد رہے کہ نومبر میں چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت ملنے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے والد کی عیادت و تیمارداری کے لیے بیرونِ ملک جانے کی درخواست دائر کی. جس پر 18 فروری کو دو رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ مریم نواز کو آخری مرتبہ نواز شریف کی لندن روانگی کے وقت دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ سیاسی منظر نامے سے بالکل غائب ہیں۔ ٹوئٹر اور سیاسی سرگرمیوں میں انتہائی فعال رہنے والی ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی خاموشی کے حوالے سے کئی اندازے لگائے جارہے ہیں لیکن پارٹی میں ان کے قریب تصور کیے جانے والے محمد زبیر کے مطابق یہ خاموشی اب صرف چند ہفتوں کی مہمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے میں آپ کو یہ بتا دوں کہ مستقبل میں وہ مستقل طور پر پاکستانی سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہیں اور موجودہ حالات کے پیشِ نظر ان کا طرزِ سیاست پہلے سے مختلف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز لندن جانا چاہتی ہیں لیکن انھیں ضمانت ملنے کے باوجود صرف شک کی بنیاد پر روکا ہوا ہے۔
سابق گورنر نے کہآ کہ ’مریم نواز دو ٹویٹ کرتی ہیں تو انھیں پکڑ کے جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر حکومتِ وقت ہمیں یہ ضمانت دے کہ سیاسی طور پر فعال ہونے کی وجہ سے مریم نواز کو نہیں پکڑا جائے گا تو چند ہفتوں میں وہ بھرپور طریقے سے سیاست کریں گی۔‘
گذشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ کچھ ن لیگی رہنماؤں نے چوہدری نثار علی خان کی پارٹی میں دوبارہ انٹری کی کوششیں تیز کردی ہیں اور ان دنوں سابق وزیر داخلہ کی لندن میں موجودگی پر قیاس آرئیاں ہیں کہ وہ شریف برادران سے معاملات طے کر رہے ہیں۔ تاہم محمد زبیر نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے لندن دوسرے گھر کی طرح ہے، ان کا اس وقت لندن جانا محض ایک اتفاق ہے۔ اِس وقت چوہدری نثار کی نواز شریف سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔‘
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے پارٹی میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کے حوالے سے محمد زبیر کا کہنا تھا کہ سابق وزیر داخلہ کے ن لیگ میں واپس آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ’ایک وقت تھا جب نواز شریف، مریم نواز، ان کے شوہر اور پارٹی کے کئی ارکان جیل میں تھے، اس مشکل وقت میں وہ پارٹی کے ساتھ نہیں تھے۔ ن لیگ نے یک طرفہ احتساب کا سامنا کیا، اس دوران پارٹی کے رکن کی حیثیت سے ان پر لازم تھا کہ وہ نواز شریف کا ساتھ دیں۔ ’اگر وہ سمجھتے تھے کہ پارٹی نے غلطیاں کیں تو وہ پارٹی کے ساتھ رہ کر بعد میں اپنے حق کے لیے لڑ سکتے تھے۔‘ سابق گورنر نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ نواز شریف امریکہ میں علاج کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ان کا گھر اور خاندان دونوں لندن میں ہیں، اس لیے وہ لندن میں ہی علاج کروائیں گے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close