کیا آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا آئینی عمل پورا کرنے کے لیے دی گئی 6 ماہ کی مہلت میں سے اڑھائی ماہ گزر جانے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سروسز ایکٹ ترمیمی بل منظور ہوجانے کے باوجود ابھی تک جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوبارہ تقرری کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے حوالے سے حکومتی ایوانوں میں کنفیوژن پائی جاتی ہے۔
عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سروسز ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد جنرل باجوہ کی دوبارہ تعیناتی کا آئینی عمل مکمل ہوچکا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئینی عمل کی تکمیل کیلئے ابھی وفاقی کابینہ کی منظوری، وزیر اعظم کی سفارش اور صدر کی جانب سے نوٹیفکیشن کا اجراء باقی ہے۔ سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آرمی چیف کی تقرری کا آئینی عمل مکمل ہو چکا ہوتا تو حکومت اس بات کو باضابطہ طور سپریم کورٹ کے علم میں لے آئی ہوتی جس نے 28 نومبر 2019 کے روز حکومت کو یہ آئینی عمل مکمل کرنے کے لیے 6 ماہ کی مہلت دی تھی۔
لہٰذا سرکاری حلقوں کے مطابق قرین از قیاس یہی ہے کہ ابھی تک آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا آئینی عمل تکمیل کے مختلف مراحل میں سے گزر رہا ہے۔ دوسری طرف وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہے لیکن اس حوالے سے سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے وزارت دفاع کا کوئی بھی نوٹیفکیشن قانونی اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کے حوالے سے کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن ہی قانونی طور پر درست ہو گا جس کے بعد ہی آرمی چیف کی تقرری کا آئینی عمل مکمل تصور کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کیلئے آئینی ترمیم کے بعد ایک آئینی طریقہ کار بھی اپنانا ہوگا جس کے تحت سب سے پہلے وزارت دفاع جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری وزیراعظم کو بھجوائے گی۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وزیراعظم جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری صدر کو بھجوائیں گے جس کے بعد صدر کی جانب سے توسیع کا حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی اورسینٹ سے سروسز ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کرسکتے ہیں۔ ترمیمی بل کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت قومی مفاد میں آرمی چیف کی نئی تعیناتی یا توسیع کے مجاز ہوں گے۔ ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی ریٹائر ہونے کی عمر کا اطلاق آرمی چیف پر ہوگا۔ علاوہ ازیں ترمیمی بل کے مطابق پاک فوج، ائر فورس یا نیوی سے تین سال کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا تعین کیا جائے گا جن کی تعیناتی وزیراعظم کی مشاورت سے صدر کریں گے۔ آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو بھی تین سال کی توسیع دی جاسکے گی۔
یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 28 نومبر 2019 کو مکمل ہورہی تھی اور وفاقی حکومت نے 19 اگست 2019 کو جاری ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں 3 سال کی نئی مدت کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا تھا جسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے 28 نومبر 2019 کو اس کیس کی سماعت کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے قانون سازی کا حکم دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close