کپتان کے خلاف کون سے خطرناک کیسز زیر التوا ہیں؟

نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے ہواؤں کا رخ بدلنے کی نوید سنائے جانے کے باوجود، ہوائیں ہیں کہ اپوزیشن کے مخالف ہی چلے جا رہی ہیں اور نیب ان کے خلاف ایک سے بڑھ کر ایک نیا کیس دائر کیے چلا جارہا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ہواؤں کا رخ بدلا تو کپتان کے خلاف بھی ایسے کئی کیسززیر التواء ہیں جن کا فیصلہ ہونے پر آئے تو وہ نااہل بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں ۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مقتدر حلقوں کے پاس تمام وزرائےاعظم کے خلاف ہمیشہ سے مضبوط کیسز محفوظ ہوتے ہیں اور جب کوئی وزیر اعظم ان کے کنٹرول سے باہر ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ان کیسز کو شروع کروا کر وزراء اعظم کے پر کاٹ دئیے جاتے ہیں۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران مختلف حکومتی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان میں دوریاں بڑھ چکی ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب کپتان کے خلاف کئی برسوں سے زیر التوا کیسز کھول دئیے جائیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ نے یہ کیسز وقتی طور پر اسی لیے دبا رکھے ہیں کہ جب ضرورت پڑے تو ان کا فیصلہ کروا کر اپنا مقصد حاصل کر لیا جائے۔
یاد رہے کہ 2013 سے 2018 کے دوران خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے وقت بطور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صوبائی حکومت کے ملکیتی ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال کیا جس پر ان کے خلاف نیب میں ریفرنس چل رہا ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس تاحال برقرار ہے اور اس کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ چاہے تو نیب کسی بھی وقت اس کیس کا فیصلہ کروا کر کپتان کو فارغ کروا سکتی ہے۔
عمران خان پر ایک اور اہم کیس تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ سے متعلق ہے جو کئی سال سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں زیر التوا ہے۔ بطور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے عام انتخابات 2018 سے قبل الیکشن کمیشن میں حلف نامہ داخل کروایا کہ ان کی جماعت کو کسی ممنوعہ ذریعے سے فنڈنگ نہیں ہوئی۔ تاہم تحریک انصاف کے سابق بانی رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی ہے کہ تحریک انصاف نے امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور دیگر کئی ممالک سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ثابت ہوگئی تو نہ صرف عمران خان فارغ ہوں گے بلکہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز بھی گھر چلے جائیں گے اور یوں تحریک انصاف حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔
اسکے علاوہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک عدالت نے عمران خان کو ٹیرین وائٹ نامی لڑکی کا ناجائز باپ ڈکلیئر کر رکھا ہے جو دراصل عمران خان کی گرل فرینڈ سیتا وائٹ کی بیٹی ہے۔ دوسری جانب عمران خان نے الیکشن لڑتے وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنے اہل خانہ کا ذکر کرتے ہوئے ٹیرین وائٹ کا تذکر تک نہیں کیا یوں عمران خان آئین پاکستان کے آرٹیکل 62,63 کے مطابق صادق اور امین نہ ہونے کی بنیاد پر اسمبلی رکنیت سے فارغ ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کپتان اوراسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ مقتدر حلقوں نے میڈیا کو حکومت کی نااہلی دکھانے کی کھلی چھٹی دے دی ہے اور ماضی کے برعکس ان کی جانب سے اب ذرائع ابلاغ پر تحریک انصاف کا دفاع بھی نہیں کیا جا رہا۔
رواں برس مارچ کے پہلے ہفتے میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لندن سے واپس آجائیں گے جس کے بعد حکومت مخالف تحریک مزید زور پکڑے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی حکومت کی انتقامی کاروائیوں کے خلاف جلد سڑکوں پر آنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ابھی تک تحریک انصاف کے اتحادی بھی اس سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوئے اور امکان ظاہرکیاجارہاہے کہ آنے والے چند دنوں میں تین اہم تحادی جماعتیں ایک مرتبہ پھر کپتان پر اظہار عدم اعتماد کریں گی۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے یہ لگتا ہے ہے کہ کپتان کی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔ حالات یہی بتاتے ہیں کہ جونہی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف حکومت کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیا تو عمران خان کے خلاف کسی بھی کیس کو بنیاد بنا کر انہیں بآسانی قانونی اور آئینی طریقے سے گھر بھجوا دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close