حکومت جانے والی ہے، ان ہاؤس تبدیلی سےنظام نہیں چلے گا

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت جا رہی ہے، ان ہاؤس تبدیلی سے کھچڑی پکے گی۔ روایتی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں شفاف انتخابات سے ہی مسائل حل ہوں گے.
قومی اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں ماتم کا ماحول ہے۔حکومت ختم ہونےوالی ہے۔ وزراکوبھی حکومت جاتی ہوئی نظرآرہی ہے، نگران سیٹ اپ بن رہا ہے، نوے دن میں الیکشن کرائے جائیں گے۔الیکشن کے بعد اصولوں کی بنیادپردوسری جماعتوں سے بات ہوگی۔ شاہد خاقان عباسی نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چودھری پرویز الہٰی نے فضل الرحمان سے وعدہ کیا تھا کہ تین ماہ میں وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری نثار سے شہباز شریف اور نواز شریف کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تاہم چودھری نثارواپس آنا چاہیں توانہیں اس صف میں جگہ نہیں ملے گی جہاں پر وہ تھے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت نیشنل ایجنڈا لے کر آئے توساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں تاہم موجودہ حکومت کی کوئی ڈائریکشن نہیں، تمام جماعتیں مل کر متحدہ حکومت بناسکتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر نیب کے نئے ریفرنس کا واحد مقصد دباؤ میں لانا ہے۔ مجھ پر پہلا ریفرنس 46 ارب کا تھا، اب تیرہ کروڑ کا ہے۔نیب سے انہیں پیغام ملتا ہے کہ وہ گھر بیٹھے رہیں تو کوئی کیس نہیں بنے گا. ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر کا ایم ڈی پی ایس او کی تقرری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نیب آرڈیننس کے مطابق تقرری میں پروسیجرل غلطی کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا۔ نیب آرڈیننس کے تحت راجا پرویز اشرف کی رہائی کا فیصلہ بھی آ چکا ہے۔۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان ہاؤس تبدیلی سے بھی نظام نہیں چلے گا، مسائل کا واحد حل نئے انتخابات ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے علاوہ کوئی معیشت کو نہیں سنبھال سکتا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف سمیت کسی لیگی رہنما پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں بنایاں جا سکا۔ انھیں بیٹے سے پیسے لینے پر نااہل قرار دیا گیا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاسی طاقت ثابت کر دی۔ ان کی اصل ناراضگی ہم سے نہیں بلکہ چودھری پرویز الہٰی سے ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے وعدے تو چودھری پرویز الہٰی نے کیے تھے۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ حکومت ختم ہونےوالی ہے، نگران سیٹ اپ بننےوالاہے،لیکن میں اس کا حصہ نہیں بنوں گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی،قومی اسمبلی میں ماتم کا ماحول ہے،وزراکوحکومت جاتی ہوئی نظرآرہی ہے،تبدیلی کی بنیادڈالی جاچکی ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close