کورونا وائرس کی ابتدائی انتباہی علامات کی شناخت ہوگئی

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس جسے کووڈ19 کا نام دیا گیا ہے، سے اب تک 1350 سے زائد ہلاکتیں اور 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔جمعرات کو چین کے صوبہ ہوبے میں 242 اموات اور 14 ہزار 840 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی، جو ایک دن میں اس وائرس سے ہلاکتوں اور نئے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ایک نئی تحقیق کے نتائج سے اس کے پیچھے چھپی وجہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے جس میں اس نئے کورونا وائرس سے منسلک علامات اور ان کے رجحانات کی شناخت کی گئی ہے۔

ووہان یونیورسٹی کے زہونگنان ہاسپٹل کی تحقیق میں 140 کے قریب ہسپتال میں داخل مریضوں میں اس وائرس کی علامات اور دیگر عناصر کا جائزہ لیا گیا۔محققین نے بتایا کہ اس وائرس کی سب سے عام ابتدائی علامت بخار ہے جو تحقیق میں شامل 99 فیصد مریضوں میں دیکھنے میں آئی۔دیگر عام علامات میں تھکاوٹ اور خشک کھانسی شامل ہیں جو تحقیق میں شامل 50 فیصد سے زائد مریضوں میں دیکھنے میں آئیں۔
ایک تہائی نے مسلز میں درد اور سانس لینے میں مشکل کی شکایت کی، تاہم ابتدائی علامات سامنے آنے کے 5 دن بعد (اوسطاً) مریضوں کو سانس لینے میں مشکل کی علامت کا سامنا ہوا۔دیگر علامات میں عام نزلہ زکام، سردرد یا گلے میں تکلیف شامل ہیں، جو کیسز کی بہت کم تعداد میں سامنے آئی۔ان کا کہنا تھا کہ 14 مریضوں میں بخار یا سانس لینے میں مشکلات سے ایک سے 2 دن قبل ہیضے اور متلی کا بھی سامنا ہوا، جبکہ حالت بگڑنے پر 15 فیصد میں نمونیے کی تشخیص بھی ہوئی۔
اس سے وائرس کے پھیلاﺅ کے ایک اور ممکنہ ذریعے کا بھی عندیہ ملتا ہے کیونکہ تحقیق میں بتایا کہ ہاضمے کی کرابی کی علامات والے ایک مریض کو سرجیکل ڈیپارٹمنٹ بھیجا گیا تھا کیونکہ ان علامات کو روایتی کورونا وائرسز کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا۔اس مریض نے ہسپتال میں موجود کم از کم 4 مزید مریضوں کو وائرس سے متاثر کیا اور ان سب میں ہاضمے کی خرابی کی علامات ظاہر ہوئیں۔تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close