امریکا کی بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام کی فروخت پر پاکستان کو تشویش

پاکستان نے امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا ہتھیاروں کی دوڑ کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا، بھارت کو ائیر ڈیفنس سسٹم کی فروخت پرتشویش ہے۔دفتر خارجہ نے خبردار بھی کیا کہ ترک صدراور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان کےدوران بھارت کوئی غیرذمہ دارانہ قدم اٹھا سکتا ہے، پاکستان نےعالمی برادری کوبھارتی فالس فلیگ آپریشن کےخدشے سے آگاہ کردیاہے، بھارت کو کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام کی فروخت پر تشویش ہے اور امریکی فیصلے سے خطے کے استحکام پر سنجیدہ اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا ہتھیاروں کی دوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
ترجمان نے امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام (ایڈوانسڈ انٹرڈکشن ویپن سسٹم – اے آئی ڈبلیو ایس) کی فروخت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان دفاعی تعلقات جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ عالمی برادری پاکستان کیخلاف بھارت کے جارحانہ عزائم اور بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کے دھمکی آمیز بیانات سے بخوبی آگاہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کی کوششوں سے روکے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کئی بار کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ امریکی صدر دورہ بھارت کے دوران یہ معاملہ اٹھائیں گے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پر امید ہیں جبکہ عالمی شراکت دار ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔بھارت کی جانب سے سیز فائر خلاف ورزیوں سے متعلق ترجمان نے کہا کہ رواں سال کے دوران بھارت اب تک 272بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کرچکا ہے جس کے نتیجے میں 3 شہری شہید اور 25 بے گناہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close