ملین ڈالر لیں، محبوب چھوڑ دیں

تحریر : یاسر پیرزادہ
ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک نوجوان اپنی محبوبہ کےلیے سونے کا کڑا خریدنے جیولر کے پاس گیا، سنار نے پوچھا کیا اِس پر آپ اپنی گرل فرینڈ کا نام کھدوانا پسند کریں گے؟ نوجوان نے ایک لمحے کےلیے سوچا پھر بولا کہ نہیں آپ اِس پر لکھ دیں ’فقط تمہارے لیے جسے میں سچا پیار کرتا ہوں۔‘
سنار یہ سن کر بے حد متاثر ہوا ’صاحب، یہ تو واقعی بہت رومانوی بات ہوئی۔‘ نوجوان نے مسکرا تے ہوئے جواب دیا ’اصل میں یہ رومانس کم اور حقیقت پسندی زیادہ ہے، کل کو اگر میرا بریک اپ ہوگیا تو میں یہ کڑا کسی دوسری لڑکی کو دے سکوں گا!‘
ویسے تو میں بھی اچھا خاصا حقیقت پسند ہوں مگر اِس نوجوان کی بات سُن کر تو میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے، ایسے نوجوان ہیرے ہوتے ہیں، اِن کی قدر کی جانی چاہیے۔ مگرحقیقت پسند ہونا کوئی آسان کام نہیں کیوں کہ بعض اوقات ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں حقیقت پسندی اور رومانویت دونوں یوں ’ایکسپوز‘ ہو جاتی ہیں جیسے راج کپور کی فلموں میں نو دریافت شدہ ہیروئن ہوا کرتی تھی!
فرض کریں اگر کسی عورت کو کہا جائے کہ وہ ایک ملین ڈالر اور اپنے محبوب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے تو وہ عورت کس کا انتخاب کرے گی! جواب دینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک ملین ڈالر وہ رقم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس اتنے پیسے ہوں تو پھر آپ چاہے دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوں آپ کو امیر آدمی سمجھا جائے گا۔ ویسے تو دولت کی کوئی حد نہیں مگر ایک ملین ڈالر سے پُر آسائش زندگی گزاری جاسکتی ہے بشرطیکہ آپ یہ پیسے اپنے سالے کو کسی کاروبار کےلیے ادھار نہ دے دیں۔
مدعے پر واپس آتے ہیں، ایک ملین ڈالر اور محبوب کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو عورت کیا کرے گی؟ میں نے یہ سوال اپنے مرد دوستوں کے سامنے رکھا تو اُن میں سے زیادہ تر کا خیال تھا کہ عورت ملین ڈالر رکھ لے گی اور محبوب کو چھوڑ دے گی کیوں کہ محبوب نیا بھی مل جاتا ہے، ملین ڈالر روز روز نہیں ملتے! اب ظاہر ہے کہ یہ خالصتاً مردانہ جواب تھا جو کسی فیمنسٹ کو تو بالکل پسند نہیں آسکتا۔
لیکن ایک دوست نے خاصا دانشمندانہ جواب دیا، اُس کا کہنا تھا کہ جب آپ یہ سوال کسی عورت کے سامنے رکھیں گے تو اُس کا مطلب ہوگا کہ عورت کے ذہن میں اپنے محبوب کی تصویر موجود ہے اور حقیقت میں بھی وہ محبوب اس کی دسترس میں ہے، سو ایسی عورت کبھی اپنے محبوب کے عوض ملین ڈالر کا سودا نہیں کرے گی، لیکن وہ عورت جس کا فی الحال کوئی محبوب نہیں، وہ شاید ملین ڈالر والی پیش کش قبول کرلے۔
ایک خاتون کولیگ نے بھی دلچسپ جواب دیا، اُس نے کہا کہ میں دنیا کو اپنے محبوب کے بارے میں نہیں بتاؤں گی، چُپ کرکے ملین ڈالر وصول کر لوں گی اور وہ پیسے اپنے دلبرجانی کے قدموں میں ڈھیر کردوں گی۔ میں نے اِس کی وجہ پوچھی تو ہنس کے کہنے لگی کیوں کہ وہ شخص پہلے سے ہی کسی اور عورت کا محبوب ہے۔
ویسے اِس سوال کی مزید کچھ صورتیں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً اگر ایک عورت اپنے محبوب کے ساتھ تو ہو مگر اُس کا محبوب کسی وجہ سے کنگال ہو جائے تو کیا ایسی صورت میں وہ عورت اپنے محبوب کو مشکل سے نکالنے کےلیے ملین ڈالر وصول کر کے محبوب کی جھولی میں ڈال دے گی اور خود محبوب سے دستبردار ہو جائے گی؟ سچی محبت کرنے والے اِس مسئلے پر اگر روشنی ڈال سکیں تو بہت ہی اچھا ہو گا۔
اسی سوال کو ذرا بدل کر دیکھتے ہیں، اگرعورت کا کوئی محبوب نہیں اور وہ ملین ڈالر وصول کر چکی ہے مگر وصول کرنے کے بعد اسے اپنے خوابوں کا شہزادہ مل جاتا ہے تاہم شرط یہ ہے کہ ملین ڈالر واپس کرنا پڑیں گے، ایسے میں وہ کیا کرے گی؟ محبت اور دولت کے درمیان انتخاب یقیناً مشکل ہوتا ہے اور بہت سے لوگ شاید محبت کو دولت پر ترجیح دیں مگر اِس کی وجہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ کوئی بہت سچے عاشق ہیں بلکہ اِس کی وجہ یہ ہوگی کہ انہیں سچ مچ کے ملین ڈالر نہیں ملنے اور انہیں پتا ہے کہ یہ بات محض مفروضے کی حد تک ہی ہے۔
اگر کسی کے سامنے حقیقت میں ملین ڈالر رکھ دیے جائیں اور ساتھ میں اس کے محبوب کو کھڑا کرکے کہا جائے کہ اِن دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کر لو تو اُس وقت عشق کا حقیقی کا بھاؤ معلوم پڑے گا۔ یہ سوال میں نے کچھ مردوں کے آگے رکھا تو انہوں نے نہایت بے شرمی سے کہا کہ وہ ایک ملین ڈالر وصول کرکے محبوب کی تلاش میں لاس ویگاس کےلیے نکل کھڑے ہوں گے۔ ایک مرد عاقل نے البتہ قدرے بہتر جواب دیا اور کہا کہ میں یہ ڈیل لینے کے بجائے کوئی ایسا محبوب تلاش کروں گا جس کے پاس بے شک نصف ملین ڈالر ہی ہوں، لالچ بری بلا ہے!
میرا بھی یہی خیال ہے کہ اِس قسم کی ڈیل جس میں ملین ڈالر کے عوض محبوب چھوڑنے کی پیش کش ہو بظاہر تو خاصی حقیقت پسندانہ لگتی ہے مگر ایسی ڈیل کرکے عورت ہو یا مرد اپنی محبت کا سودا کر بیٹھتا ہے۔ ویسے بھی ہم تو وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی ڈیل راس نہیں آتی، کچھ بھی کرلیں گھاٹے میں ہی رہتے ہیں، تو پھر کیوں نہ اپنے محبوب کے ساتھ رہیں، بغیر کسی ڈیل کے۔ آج ویلنٹائن ڈے ہے اس کا بھی یہی تقاضا ہے، ووٹ کو تو عزت دے نہیں سکے، ویلنٹائن ڈے کو ہی عزت دے دیں۔
بشکریہ: اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close