سوشل میڈیا کمپنیاں نئے قوانین کے خلاف ڈٹ گئیں

مین سٹریم میڈیا کے بعد سوشل میڈیا کو بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی غرض سے متعارف کرائے گئے متنازعہ ترین قوانین کے خلاف ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی کی متعلقہ کمپنیاں بھی میدان میں آگئی ہیں اور حکومت سے بغیر مشاورت نافذ کیے گئے قوانین کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجیز کی کمپنیوں پر مشتمل بڑے صنعتی اتحاد ایشیا انٹرنیٹ کولیشن یا اے آئی سی نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیرسوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط جاری کردئیے جبکہ ساتھ ہی متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔
خیال رہے کہ 28 جنوری کو وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی جن کا اعلان 12 فروری کو کیا گیا تھا۔ ان ریگولیشنز کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے دفاتر قائم کر کے فوکل پرسن مقرر کرنا ہوگا۔
تحریک انصاف حکومت کے سوشل میڈیا پر شب خون مارنے کے بعد انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجیز کی بڑی کمپنیوں مثلاً فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، ایمازون، ایئر بی این بی، ایپل، بکنگ ڈان کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈان، لائن، راکوٹین اور یاہو پر مشتمل تنظیم اے آئی سی نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے آے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اسٹیک ہولڈرزاورانڈسٹری کے ساتھ مشاورت کیے بغیر وسیع پیمانے پر آن لائن قواعد کا ایک مجموعہ جاری کرنے پرایشیا انٹرنیٹ کولیشن کو گہری تشویش ہے۔ پین کے مطابق یہ قواعد اظہار رائے کی آزادی کو مجروح اور شہریوں کے ذاتی تحفظ اور پرائیویسی کو خطرے میں ڈال دیں گے، ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ ان رولز پر دوبارہ غور کیا جائے جو ممکنہ طور پر پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی کے عزائم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز 2020‘ کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 اینڈ پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ، 2016 کے تحت نوٹیفائیڈ کیا گیا تھا۔ ان قواعد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے پاکستان میں مواد اور روابط کے حوالے سے وسیع گائیڈ لائنز شامل ہیں جس میں وفاقی دارالحکومت میں مستقل دفتر قائم کرنا، شہریوں کے ڈیٹا کی پرائیویسی کے لیے ملک میں ہی اسے ریکارڈ اور محفوظ کرنے کے ساتھ کمپنی کی ریگولیشن پالسیز سے قطع نظرحکومت کی جانب سے کسی مواد کو ہٹانے کی درخواست پر عمل کرنا شامل ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس سے حکومت ایسی متعدد کوششیں کرچکی ہے کہ جس میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے مواد ہٹانے کی درخواست پر عمل درآمد کروایا جا سکے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے حکومت پاکستان کی خواہش کے مطابق ممنوعہ مواد مواد نہ ہٹانے اورعدم تعاون کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف حکومت نے ان کمپنیوں کو غلام بنانے کے لیے متنازع ترین قوانین متعارف کروائے ہیں تاہم دوسری جانب آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کمپنیوں کے حوالے سے واضح قوانین موجود نہیں اور نہ ہی ڈیٹا پروٹیکشن کا انتظام ہے اس لیے یہ کمپنیاں کسی صورت پاکستان میں دفاتر قائم نہیں کریں گی، الٹا حکومت کو اس اقدام سے معاشی نقصان اور نوجوانوں کو بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close