طالبان ترجمان کے فرار پر ریاستی ادارے مشکل میں

ملک کے ریاستی اداروں کی جانب سے مطلوب ترین طالبان دہشتگرد احسان اللہ احسان کے پرسرارحالات میں فرار ہوجانے پر مسلسل حکومتی خاموشی کے بعد اب طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے ورثا نے اکٹھے ہو کر سپریم کورٹ کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو جوابدہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔
دسمبر 2014 کے پشاور آرمی پبلک سکول سانحہ میں شہید 135 طالب علموں کے والدین نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد سے ایک مشترکہ خط کے ذریعے تحریک طالبان کے گرفتار ترجمان احسان اللہ احسان کے پراسرار فرار کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کے فرار کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے ہوئے مقتول بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان تحقیقات کروائیں کہ کیا وہ واقعی فرار ہوا یا اسے کسی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا؟
چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے مشترکہ خط میں شہید بچوں کے والدین نے مزید کہا ہے کہ یہ بھی پتہ لگوایا جائے کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود احسان کو کس معاہدے کے تحت تین سال تک عدالتی ٹرائل کے بغیر فوجی تحویل میں رکھا گیا جہاں سے بالآخر وہ فرار ہوگیا یا اسے فرار کروا دیا گیا۔
درخواست میں چیف جسٹس سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار میں ذمہ دار لوگوں کو نوٹس جاری کر کے طلب کیا جائے اور وضاحت طلب کی جائے۔ شہید طلبا میں سے ایک طالبعلم آجون خان کے والد نے یہ درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہید بچوں کے لواحقین نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی تھی جنہوں نے انکو یقین دہانی کروائی ہے کہ آئندہ چند روز میں ان کی ملاقات چیف جسٹس سے بھی کروا دی جائے گی۔
دوسری جانب شہدا اے پی ایس کے لواحقین نے حملے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس پر تاخیری حربوں کا الزام عائد کیا ہے۔ قبل ازیں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا احسان اللہ احسان کی ترکی میں مبینہ موجودگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل شہدائے اے پی ایس فورم کے صدر ایڈووکیٹ فضل خان کی قیادت میں مظاہرین پشاور پریس کلب کے باہر جمع ہوئے اور دہشت گرد گروپ ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ احسان اللہ احسان کے حراست سے مبینہ طور پر فرار ہونے کی وضاحت دی جائے۔
خیال رہے کہ احسان اللہ کی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ حال ہی میں سامنے آئی تھی جس میں اس نے 11 جنوری 2020 کو ‘پاکستانی سیکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’ فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہے جبکہ ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گروپ کا سابق ترجمان افغانستان میں ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان دہشت گردوں کو پکڑنے اور نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر فرار ہوا جبکہ اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا تھا۔
آڈیو پیغام میں کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے مشہور لیاقت علی کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی لیکن پاکستانی عہدیداروں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو قید میں رکھا گیا لہذا میں نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت جلد ریاستی اداروں کے کرتوتوں سے پردہ اٹھائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close