مولانا فضل الرحمان کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیئے

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج میں کوئی تناؤ نہیں، حکومت کہیں نہیں جا رہی، دونوں ایک پیج پر ہیں.جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انھیں ہوتا ہے، میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں۔ وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مولانا کو بتانا ہو گا کہ ایک جمہوری حکومت کو گرانے کی انہیں کس نے یقین دہانی کرائی تھی.
وزیراعظم عمران خان نے ملکی موجودہ صورتحال پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن حکومت جانے کی باتیں کر کے اپنی پارٹیوں کا اکٹھا کرنا چاہتی ہے. یہ لوگ ذاتیات کے لیے خواہشات کا اظہارکرتے رہتے ہیں. ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب پولیٹیکل مافیا ہیں ، جنہیں اپنی سیاسی دکانیں بند ہونے اور جیلوں میں جانے کی فکر ہے.. ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کے لیے نظام کوبدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. نئے انتخابات کے قوانین کے حوالے سے مسودہ تیار کیا جارہا ہے. انھوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ اور بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے انتخابات ہوں گے جبکہ سینیٹ میں شو آف ہینڈ کے ذریعے ووٹنگ ہو گی.
انھوں نے مزید کہا کہ فوج کو پتہ ہے میں کتنی چھٹیاں کرتا ہوں اور میرا کام کیسا جا رہا ہے۔ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کون کیا کررہا ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انھیں ہوتا ہے، میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں. انھوں نے مزید کہا کہ آٹے اور چینی بحران میں جہانگیر ترین ملوث نہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مہنگائی کی بڑی وجہ ہے، ہر جگہ پر مافیا بیٹھا ہوا ہے جو چیزوں کی قیمتوں کو اوپر رکھتا ہے،انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں ہرجگہ کارٹیل ہے جو قیمتوں کو مرضی سے کنٹرول کرتا ہے، مسابقتی کمیشن اپنا کردارادا کرنے میں ناکام رہا. ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ نہیں ہو گا.اس حوالے سے آئی ایم ایف کےساتھ معاملات طے پا جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گندم اورچینی بحران پرتمام حقائق عوام کے سامنے لائیں گے. آٹا اورچینی بحران پرابتدائی رپورٹ اعتراض لگاکرواپس کردی ہے.آٹا بحران کی ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں.
دوران گفتگو وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس، حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ہم سے پہلے بجلی مہنگی خریدنے کے معاہدے کیے گئے، 24 سینٹ میں بجلی خریدنے کے معاہدے ہوئے جو بہت مہنگے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں آئے تو 1250 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ہمیں دیا گیا، ہم نے پن بجلی کا صرف ایک معاہدہ 5 سینٹ پر کیا تاہم ہم بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھائیں گے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس سے متعلق تمام فریقین کا ایمرجنسی اجلاس بلایا ہوا ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا 15 سالہ معاہدہ کیا گیا، آج آدھی قیمت پر ایل این جی مل رہی ہے لیکن ہمیں معاہدے میں پھنسا دیا گیا کیونکہ مخالفین کو مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا صرف معیشت کے حوالے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو دیکھتی ہے، ہم جب اقتدار میں آئے تو ساڑھے 19 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیادہ ہو تو حالات خراب رہتے ہیں۔معیشت سے متعلق انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی وہیں اچھی ہوتی ہے جو برآمدات میں اضافے کی وجہ سے ہو، تاہم مسلم لیگ (ن) کے دور میں برآمدات 24 سے گھٹ کر 20 ارب ڈالر پر آگئی تھیں جبکہ تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔


ماضی کی حکومتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ہمارے اوپر 40 ارب ڈالر کا بیرونی قرض تھا، جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے 10 برسوں میں 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے پہلے سال ہمیں 10 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا پڑا، اگر ہم پہلے سال 10 ارب ڈالر کا قرض واپس نہ کرتے تو دیوالیہ ہوجاتے، ایسی صورتحال میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 250 روپے تک پہنچ جاتا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ ہوجاتے اور اگر ہم دیوالیہ ہوجاتے تو آج مہنگائی کئی گنا زیادہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین ساری صورتحال سے پوری طرح آگاہ تھے۔
ڈالر کی قدر سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لیے 20 ارب ڈالر مارکیٹ میں ڈالے جس سے صورتحال خراب ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں روپیہ 122 سے بڑھ کر 155 پر آیا، روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی ہوئی اور ہر چیز پر اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے سال 75 فیصد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کیا اور پوری دنیا نے ہماری کارکردگی کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) صحیح کام نہیں کر رہا تھا، ہم نے اس کونسل کی جگہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان میڈیکل کونسل بنایا، تاہم نجی میڈیکل کالجز کی مافیا اس کے آڑے آگئی۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں بھی تبدیلی کی کوشش کرتے ہیں مفاد پرست مافیا آڑے آجاتی ہے۔
عمران خان کے مطابق ان کے اوپر بھی 6 کیس بنائے گئے تھے لیکن وہ لندن فرار نہیں ہوئے بلکہ حلال کے پیسے کی ایک ایک منی ٹریل دی۔
ذرائع ابلاغ سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو جتنا میں جانتا ہوں کوئی نہیں جانتا، ڈیڑھ 2 سال میں میرے اوپر میڈیا میں جتنے حملے ہوئے ہیں کسی پر نہیں ہوئے، میرے خلاف جھوٹی خبریں بھی جاتی ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے کبھی بھی میڈیا کے حوالے سے چین اور سعودی عرب کی مثال نہیں دی بلکہ ہمیشہ برطانیہ کی بات کی ہے، برطانیہ میں کوئی جھوٹی خبر دے اور جھوٹا الزام لگائے تو وہ ادارے بند ہوتے ہیں’۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرا کوئی کیمپ آفس نہیں میں صرف تنخواہ پر گزارا کرتا ہوں اور اپنے بل خود ادا کرتا ہوں، دنیا میں سب سے کم کسی وزیراعظم کی تنخواہ ہوگی تو وہ میری ہوگی۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اینکر نے میرے اوپر بنی گالا کے گھر کو ریگولرائز کرنے کا الزام لگایا، میں اس کے خلاف عدالت میں گیا ہوں مجھے ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ اس کے علاوہ عمران خان کے مطابق ان کے وزیر حماد اظہر کے ٹیکس ریٹرن سے متعلق بھی جھوٹا لگایا گیا، حماد اظہر کو بھی ابھی تک انصاف نہیں ملا، اگر اس قسم کے الزامات اور جھوٹی خبریں لگائی جائیں تو چینل بند کردیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے ایک حلقے میں اپنے دورہ چین کے حوالے سے خبر کو ‘غلط’ کہتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی وجہ سے ہمیں چین میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے بیان تک کو تبدیل کرکے پیش کیا جاتا ہے، یہ صرف میری نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close