کپتان چینی ماڈل کے تحت سوشل میڈیا پر حملہ آور ہوئے

کپتان حکومت کی جانب سے مین سٹریم الیکٹرونک میڈیا کو خاموش کروانے کے بعد اب سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنائے گئے نئے حکومتی قوانین دراصل چائنا ماڈل کی کاپی ہیں جہاں سیاسی آزادیاں سلب ہیں اور سوشل میڈیا ریاستی پابندیوں کا شکار ہے۔
وزیر اعظم کی ذاتی خواہش پرسٹیزنز پروٹیکشن رولز کے نام سے بنائے جانے والے قوانین کے بارے میں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ انہیں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر لاگو کیا گیاہے لیکن شہریوں سے کسی قسم کی مشاورت کیے بغیر ہی انہیں نافذ کردیا گیا ہے۔ اس حرکت کا اصل مقصد دراصل عوام سے انکا آزادئ اظہار کا بنیادی آئینی حق چھیننا ہے اور ان کے لیے سوشل میڈیا پر موجود سائبرسپیس کو مزید تنگ کرنا ہے تاکہ وہ حکومتی ناکامیوں پر تنقید نہ کر پایئں۔ تاہم کپتان حکومت شاید بھول گئی کہ دنیا آگے کی طرف جارہی ہے لہذا پاکستان کو ریورس گئیر میں چلانا ممکن نہیں ہے۔
آئی ٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے چین کا سوشل میڈیا ماڈل پاکستان میں لاگو کرنے جا رہی ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ اگرچہ چین میں سیاسی آزادی نہیں لیکن وہاں کی عوام کو معاشی آزادی اور آسودگی حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں اس وقت 60 فیصد نوجوان بے روزگار ہے۔ لہذا کیونکر ممکن ہے کہ اس ماڈل کو پاکستان میں لاگو کیا جا سکے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے حوالے سے سخت ریگولیشنز نافذ کرناایسا ہی ہے جیسے جنرل ضیا الحق کے دوراقتدار میں ریستورانوں میں ’سیاسی گفتگو منع ہے‘ کے بورڈ لگے ہوا کرتے تھے، تاکہ لوگ اس دن، ہفتے یا مہینے کے اہم سیاسی ایشوز پر گفتگو نہ کر سکیں۔ تاہم ضیا کے گھٹن زدہ ترین زمانے میں بھی جب چپ رہتی تھی زبان خنجر تو لہو پکارتا تھا آستین کا۔ یعنی اس تاریک ترین دور میں بھی سر پھرے اپنی رائے کا اظہار کرہی لیتے تھے چاہے اس کے لئے انہیں سڑکوں پر نکل کر گولیاں ہی کیوں نہ کھانی پڑیں۔
سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کی غرض سے نافذ کردہ قوانین کے دفاع میں آنے والے حکومتی بیانیے کے برعکس میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے اداروں نے نئی پابندیوں کو پاکستانی عوام کے لیے سائبر سپیس تنگ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش قرار دیا ہے۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے نئے رولز کا غلط استعمال کریں گے اور اس سے شہریوں کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ان پر مزید قدغنیں لگیں گی۔
میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے پاکستانی ادارے فریڈم نیٹ ورک کے سربراہ اقبال خٹک کہتے ہیں کہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ریاست نے ہمیشہ قوانین کا غلط استعمال کیا ہے، تو ہم یہ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ ان رولز کو صحیح طور پر لاگو کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان کے سکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا حکومت نے کہا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق قوانین دہشت گردوں پر لگیں گے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ قوانین صحافیوں کو پابند سلاسل کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نئے رولز کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لاگو ہونے کے بعد سیاسی امور اور حکومت کی کارکردگی پر لکھنے اور بولنے والے پاکستانی یوٹیوبرز زیر عتاب آئیں گے۔
سینئیر صحافی عدنان رحمت کے خیال میں تحریک انصاف حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنے کنٹرول میں لے آنے کے بعد اب سوشل میڈیا کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تحریک انصاف حکومت نے صحافیوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے بڑی کمپنیوں کو قابو میں کرنے کا پلان بنایا ہے۔ جب فیس بک، ٹک ٹاک، ٹویٹر اور یوٹیوب جیسی بڑے ادارے قابو میں آجائیں تو اپنی مرضی کا مواد سوشل میڈیا پر لگوانا اور وہاں سے ہٹوانا بہت آسان ہو جائے گا۔
سوشل میڈیا پر متحرک کئی ناراض صارفین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ وزیراعظم نے پہلے بالخصوص تحریک انصاف سے منسلک اور بالعموم دوسرے پاکستانی نوجوانوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی ترغیب دی اور آج انہی کی حکومت ابلاغ کے اس ذریعہ پر قدغن لگا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد دراصل عمران خان کے ابتدائی بیانیے کی نفی ہو گی۔ ایسے قوانین بنانے سے دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستانی معاشرے کی بدنامی ہو گی۔
لکھاری، سیاست دان اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراسیاب خٹک کے خیال میں سوشل میڈیا پر اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے مجوزہ سکیورٹی رولز ناجائز غصب کرنے والوں کے عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن اگر گذشتہ سات دہائیوں کے تجربات سے کچھ حاصل نہیں کرنا تو لوگوں کو ظلم اور شدید معاشی استحصال کے خلاف جدوجہد سے روکا نہیں جا سکتا۔
صحافی طلعت حسین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’پاکسان میں سوشل میڈیا پر بد ترین قدغن کا آغاز۔ فیس بک، یوٹیوب، ٹوئٹر وغیرہ سب ریاستی بوٹ کے نیچے۔ عمران بچاؤ، عوام نچاؤ مہم کا ابتدایہ۔ یہ ملک برما یا دوسری جنگ عظیم کا جرمنی بنایا جا رہا ہے۔ ایک ناکام تجربہ اب جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے کامیاب دکھایا جائے گا۔
سیاسی مبصرین وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سوشل میڈیا کو پابند کرنے کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے خلاف کئی سال تک الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ جاری رہا اور انہوں نے سب کچھ برداشت کیا، نہ کہ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کو بند کروایا۔ وزیر اعظم عمران خان کو بھی اخلاقی جرات کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی حکومت اور پالیسیوں پر تنقید برداشت کرنی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close