شعور کے سوئچ سے کومے میں گئے مریض کو جگانا ممکن ہوگیا

طبی ماہرین نے چند ماہ قبل حرام مغز میں نیا دماغی گوشہ دریافت کیا تھا ،دماغ کی گہرائی میں اس گوشے کے متعلق دریافت ہوا ہے کہ یہ ‘شعور کا سوئچ‘ ہے جسے بجلی کی ہلکی مقدار سے سرگرم کیا جاسکتا ہے۔
اس ضمن میں یونیورسٹی آف وسکانسن، میڈیسن کے سائنس دانوں نے مکاک بندروں پر دلچسپ تجربات کیے ہیں جس کی تفصیلات جرنل نیورون میں شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے دوا کے ذریعے بے ہوش کیے گئے بندروں کے ایک دماغی گوشے سینٹرل لیٹرل تھیلی مس پر 50 ہرٹز کی فریکوئنسی کی بجلی کی جھماکے دیئے تو وہ مکمل طور پر نارمل ہوکر بیدار ہوگئے۔ تھیلی مس کا گوشہ دماغی جڑ یا اسٹیم کے پاس واقع ہوتا ہے اور یہ سونے، جاگنے، ہوش میں رکھنے اور چاق و چوبند بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس تجربے نے ہمیں بتایا کہ آخر دماغ کا وہ کونسا حصہ ہے جو بیداری اور شعور میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں استعمال ہونے والے برقیرے یعنی الیکٹروڈز خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے تھے۔
تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والے پروفیسر یوری سالمان نے کہا کہ دماغ کے اس باریک سے حصے کو ہم نے عین قدرتی انداز میں بجلی فراہم کی تو جانور جاگ گئے اور جیسے ہی دماغ میں سرگرمی روکی گئی وہ فوری طور پر بے ہوش ہوگئے۔
توقع ہے کہ اس دریافت کے بعد نہ صرف طویل عرصے تک کوما میں بے ہوش رہنے والے مریضوں کو جگانا ممکن ہوگا بلکہ لوگوں کو چاق و چوبند رکھنے والے آلات بھی تیار کیے جاسکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close