مشرف کی جانب سے سزائے موت کیخلاف ایک اور اپیل

سابق آمر پرویز مشرف نے آئین شکنی پر خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل پررجسٹرار آفس کے اعتراض کیخلاف اپیل دائر کر دی ہے. یاد رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے سے قبل مشرف کر سرنڈر کرنے کی شرط رکھی تھی.
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں یکے بعد دیگرے اپیلیں دائر کرنے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اصل کورٹ آف اپیل سپریم کورٹ ہی ہے اورلاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی کے خلاف دئیے گئے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے.
جنرل مشرف کے وکلاء نے اب خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت کیخلاف دائر اپیل پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو چیلنج کیا ہے، اپیل میں مشرف نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ سنگین غداری کیس میں شکایت کنندہ وفاقی وزارت داخلہ کی اجازت سے بیرون ملک علاج کیلئے گئے ہیں اس لئے انہیں مفرور یا عدالتی بھگوڑا قرار نہیں دیا جاسکتا ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی عمر 76 سال ہے اور وہ شدید بیمار ہے لہذا ان کو عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپیل دائر کرنے سے استثنی دیا جائے۔
یاد رہے کہ قبل ازیں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل اعتراض لگا کر خارج کر دی ہے۔ اپیل میں سابق صدر نے سپریم کورٹ میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سابق صدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں موقف اپنایا گیا تھا کہ پرویز مشرف کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں ملا تھا اور خصوصی عدالت کی تشکیل بھی غیر آئینی تھی۔ درخواست میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ کے رجسڑار آفس کی جانب سے سابق صدر کی درخواست پر اعتراض لگایا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے خود کو قانون کے حوالے نہیں کیا اس لیے ان کی اپیل کی درخواست نہیں سنی جا سکتی۔ بعد ازاں سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل دائر کی۔ مشرف نے اپنی درخواست موقف اختیار کیا تھا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا کوئی جواز نہیں اس لیے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کئے جائیں اور کھلی عدالت میں سماعت کی جائے۔
یاد رہے کہ 17 دسمبر 2019 کو جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے آرٹیکل 6 کے تحت ملک سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزائے موت سنا ئی تھی۔ انھیں دو ایک کے فرق سے سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے ہر جرم کے بدلے میں ایک ایک بار سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے میں جسٹس سیٹھ وقار احمد کے پرویز مشرف کے فوت ہو جانے کی صورت میں ان کی لاش کو تین دن تک ڈی چوک پر لٹکائے رکھنے کی رائے کی وجہ سے فیصلے کو خاصی تنقید کا بھی سامنا رہا۔ خصوصی عدالت یہ فیصلہ سنانے کے بعد از خود تحلیل ہو چکی ہے۔ 17 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close