فلموں میں دکھائی دینے والے نقلی ڈائناسارز کی اصلی کہانی

ڈائنا سارز کا تصور ذہن میں آتے ہی انسانی ذہن ہزاروں سال قبل کرہ ارض پرموجود اس دیو ہیکل جانور کی طرف چلا جاتا ہے جو زمانہ قدیم میں اس زمین کے طاقتور ترین مکین تھے ، آج بھی انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر یہ دیوہیکل جاندار کیسے وجود میں آئے اور پھر اتنے طاقتور جاندار آخر دنیا سے ختم کیسے ہوگئے؟
آج ہم آپ کو اس دیوہیکل جاندار کے ارتقائی مراحل کے متعلق آگاہ کریں گے ۔ ’’ٹریاسک‘‘ یعنی آج سے 208 سے 248 ملین سال پہلے کا وقت، جب دنیا کے موجودہ تمام براعظم اور ممالک ایک بہت بڑے جزیرے یا سپر کانٹیننٹ پر مشتمل تھے، جس کو ’’پینجیا‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی تمام دنیا۔ اس وقت کی دنیا کے حالات ہماری آج کی دنیا سے بہت مختلف تھے ، موسم بہت زیادہ شدت نہیں رکھتے تھے ، سمندروں کی سطح آج کے مقابلے میں بہت زیادہ بلند تھی ، قطبین کے علاقوں کی برف بھی موجود نہیں تھی ، اس وقت زمین کی سطح پر چھوٹے اور تیز رفتار ڈائناسور پہلی مرتبہ نمودار ہوئے جو رات کی تاریکی میں دیکھنے کی صلاحیت سے قاصر تھے۔
یوں وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ 208 سے 146 ملین سال پہلے جیوراسک پیریڈ کا وقت شروع ہوا۔ تب ’’پینجیا‘‘ ٹوٹتے ہوئے دو جزائر میں تقسیم ہو گیا جن کو لوریسیا اور گونڈوانا کہا جاتا ہے ۔اس زمانے میں موسم پہلے کی طرح خشک اور خوشگوار ہی رہا مگر موسم میں نمی کی مقدار بڑھنا شروع ہو گئی ، اسوقت تک قطبین کی برف ابھی نمودار نہیں ہوئی تھی اور زمین دو جزیروں کے علاوہ صرف سمندری حصے پر مشتمل ایک سیارہ ہی دکھائی دیتی تھی۔
اس دور میں ڈائنا سور کی نسلوں نے خود کو مزید بڑھانا شروع کیا جو سائز میں بہت زیادہ بڑی تھیں جنھوں نے آنے والے کئی ملین سال تک زمین پر راج کیا ، اسی دوران ڈائنا سور کی ایک ایسی نسل نے بھی جنم لیا جسے ’’پیٹیو سورس‘‘ کہا جاتا ہے جو حیران کن طور پر زمینی ریپٹائل ہونے کے باوجود اڑنے کی صلاحیت رکھتی تھی ، یہ تقریبا 35 سینٹی میٹر لمبی ہوا کرتی تھیں جس کا کھوج سب سے پہلے جان کوپ نے 1834 میں لگایا۔
ڈائنا سور کی اس اڑنے والی نسل کی خوراک دوسرے جاندار مثلا مچھلی اور دوسرے رینگنے والے جانور ہوا کرتے تھے ، اپنے تیز ترین دانتوں ، لمبی دم اور بڑی جسامت کی بدولت اس نسل نے آسمان پر راج کیا ، سائنسدان ابھی تک ڈائنا سارز کی رنگت کا اندازہ نہیں لگا سکے ہیں ، ان کے مطابق جو ڈائنا سار جتنا زیادہ زہریلا ہوتا تھا ، اس کی رنگت اتنی ہی زیادہ چمکدار ہوتی تھی۔ ڈائنا سار کی ایک نسل سمندر میں بھی دریافت ہوئی جوکہ بڑی خوفناک تھی ، اس کا وزن 8 ٹن اور لمبائی 8 میٹر سے بھی زیادہ تھی۔
برطانیہ کے ولیمز بیگ لینڈ نے 1819 میں سب سے پہلے ڈائنا سار کو دریافت کیا جو بہت بڑی جسامت کے مالک گوشت خور جانور تھے ، ان کی اونچائی 3 میٹر جبکہ وزن ایک ہزار سے تین ہزار کلوگرام تھا جبکہ ان کی لمبائی 9 میٹر تھی ۔ یہ ڈائنا سار اپنے سے کئی گنا بڑے ڈائنا سارز کا بھی شکار کرتے تھے ، حالیہ دریافتوں کے مطابق یہ انتہائی ذہانت کے بھی مالک تھے اور حکمت عملی بنا کر شکار کرتے تھے ، یہ چالیس فٹ لمبے تھے اور سمندروں کے قریب رہنا پسند کرتے تھے۔
جسامت کے اعتبار سے زمین پر رہنے والے سب سے بڑے ڈائنا سار ’’سارپورز‘‘ تھے یہ جسامت میں 130 فٹ لمبے تھے اور ان کا وزن 70 ٹن کے لگ بھگ ہوتا تھا ، ان کی گردن 46 فٹ لمبی ہوا کرتی تھی اور یہ پودوں کو کھایا کرتے تھے۔ڈائنا سارز کی سب سے چھوٹی نسل چین سے دریافت ہوئی ہے جوکہ مرغی کے سائز جتنے بڑے اور محض تین کلوگرام وزن رکھنے والے ’’مائیکرو ریپٹل‘‘ کہلاتے ہیں۔
65ملین سال قبل زمین میں آتش فشاں پھٹنے سے زمین مختلف براعظموں میں تقسیم ہوگئی ،شدید زلزوں اور آتش فشائوں نے زمین پر موجود ڈائنا سارز کو نیست و نابود کر دیا ، اس تباہی کے دوران شارکس اور مگر مچھ سمندر کی تہہ میں موجود ہونے کی وجہ سے اپنا وجود بچانے میں کامیاب رہے۔ ڈائنا سارز کی تباہی اور زمین کی تقسیم کے حوالے سے ایک دوسرا نظریہ بھی موجود ہے جس کو کارٹئیسٹ تھیوری کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق ایک بڑا شہاب ثاقب زمین کی سطح سے ٹکرایا تو زمین مختلف براعظموں میں تقسیم ہوگئی ، اس کے ساتھ مختلف آتش فشاں بھی پھٹ پڑے اور خوفناک سونامی نے زمینی سطح پر موجود ہر جاندار کو صف ہستی سے مٹا دیا ، یوں ہزاروں سال سطح زمین پر راج کرنے والی یہ مخلوق منوں مٹی تلے غرق ہوگئی جس کی باقیات ملنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔تاہم انسان نے یہ ضرور کیا کہ مقصود ہو جانے والے ڈائینا سار کو فلموں کی حد تک زندہ کر لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close