عمران خان کے اردگرد کے لوگ حکومت نہیں چلنے دے رہے

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ان کی تو کوشش ہے کہ حکومت چلتی رہے مگر عمران خان کے ارد گرد موجود لوگ حکومت کو چلنے نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو تو حکومت کے معاملات کس طرح چلیں گے۔
ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ملک میں قبل از وقت الیکشن ہو سکتے ہیں تو چوہدری شجاعت حسین نے سوچتے ہوئے کہا کہ ویسے تو حکومت پانچ برس کےلیے منتخب ہوئی ہے لیکن اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو جکدی الیکشن ممکن بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے ملک چل رہا ہے اور معاشی صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے، دو چار مہینوں کے بعد کوئی بھی وزیراعظم بننے کو تیار نہیں ہوگا۔ ہر کوئی کہے گا میں نے وزیر اعظم نہیں بننا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئندہ الیکشن کی طرف بھی جانا ہے۔ اگر حکومت کو مشورہ یا تجویز دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ ہمارے اتحادی ہماری مخالفت میں بول رہے ہیں۔ اگر انکے فائدے کے لیے کوئی سچی بات کی جائے تو وزیراعظم اسے اپنی مخالفت سمجھ لیتے ہیں۔ انہیں کوئی مشورہ دیں تو وہ اسے منفی لیتے رہے۔ لہذا اب تو میں محتاط ہو کر ہی کوئی مشورہ دوں گا۔
پنجاب میں حکومت بنانے کے بارے میں چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انکا نون لیگ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ اور لوگ بھول جائیں کہ ہم کسی سازش کے ذریعے پنجاب میں اقتدار حاصل چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی سازش کا حصہ بنیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ عمران خان کی جانب سے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کے بارے میں شجاعت نے واضح کیا کہ دھرنے کے دوران مولانا کو تمام یقین دھانیاں پرویز الہٰی نے حکومت کی طرف سے کروائی تھیں جس نے انھیں دھرنا روکنے کے لیے مذاکرات کرنے بھیجا تھا اور اس مشن میں پرویزالٰہی کامیاب بھی رہے۔
ایک اور سوال پر چوہدری شجاعت نے کہا کہ ہمیری مانیں تو نوازشریف لندن دے واپس نہ آئیں تو بہتر ہے کیونکہ نوازشریف لندن میں ہوں یا پاکستان میں، ووٹ بینک ان کا ہے۔ انہون نے کہا کہ شہباز شریف تو صفر بٹا صفر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری رائے تھی کہ نوازشریف کی طبیعت خراب ہے۔ فوری طور پر علاج کے لیے باہر جانے دیا جائے۔ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو بھٹو کے بعد نوازشریف کے نام پر سیاست ہوا کرے گی۔ چوہدری شجاعت کے مطابق طبی ماہرین سے رائے لی گئی تو ایک ڈاکٹر نے کہا یہ ایٹم بم ہے اسے جلدی جانے دیں ورنہ کسی بھی وقت چل سکتا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف لندن میں شاپنگ کر رہے ہیں، کھانے کھا رہے ہیں۔ کیا بیمار آدمی کھانا بھی نہ کھائے؟
چوہدری شجاعت نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو شریف آدمی قرار دیا اور کہا کہ پرویز الہی اپنے طور پر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب جیسے بڑے صوبے میں عثمان بزدار کے انتخاب کو آپ درست سمجھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس کے پاس اکثریت ہو وہ جسے چاہے وزیراعلی لگائے، یہی جمہوریت ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close