کراچی زہریلی گیس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 14ہو گئی

کراچی کے علاقے کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہوگئی۔ اب تک ضیاء الدین میں 9، افراد انتقال کر چکے ہیں، سول اسپتال اور کتیانہ اسپتال میں 2،2 اور برہانی اسپتال میں 1 موت ہوئی ہے۔
16 فروری کے روز کیماڑی میں پھیلنے والی پر اسرار زہریلی گیس کے اخراج سے مجموعی طور پر اب تک متاثرین کی تعداد 500 سے تجاوزکرچکی ہے۔ جیکسن تھانے کے ایس ایچ او ملک عادل کے مطابق گزشتہ روز کی پانچ ہلاکتوں سمیت زہریلی اورپراسرار گیس سے متاثر ہوکر جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ کیماڑی کے علاقے مسان روڈ، ریلوے کالونی، جیکسن بازار اور ملحقہ آبادی میں پراسرار گیس سے متاثر ہونے کا سلسلہ 16 فروری اتوار کی شام 6 بجے شروع ہوا تھا اور درمیانی شب تک 100سے زائد متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں مین منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ 17 فروری کے روز صورتحال معمول پر رہی لیکن شام ڈھلتے ہی جان لیوا گیس کے اخراج کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا اور اب کراچی بندرگاہ کے دوسری طرف کے علاقے کھارادر، میٹھادر، لیاری اور دیگر آبادیوں سے بھی متاثرہ افراد اسپتال پہنچنے لگے ہیں۔ جناح اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کیماڑی اور اطراف کے علاقوں میں گیس سے متاثر تقریباً 500 افراد کو اسپتال لایا گیا، جیکسن کیماڑی سے جو لوگ لائے گئے ان میں بچے بھی شامل تھے۔
تشویشناک صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی حرکت میں آگئےہیں. وزیر اعلیٰ سندھ نے متاثرہ علاقوں کو خالی کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ مراد علی شاہ نے گیس کے اخراج سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد متاثرہ آبادیوں سمیت رات گئے تک اپنے وزیروں اور مشیروں کے ہمراہ اسپتالوں کے دورے کیے۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے علاقہ مکینوں کو زہریلی گیس سے بچانے اور متاثرہ افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ پاکستان آرمی، نیوی، پاکستان رینجرز، کراچی پولیس اور شہری انتظامیہ بھی متحرک ہے۔ ہوا خطرناک حد تک آلودہ کیسے ہو رہی ہے؟ کہیں سے زہریلی اور جان لیوا گیس خارج ہو رہی ہے؟ یا علاقے میں کسی کیمیکل کی بُو ہے؟ اس سلسلے میں کوئی بھی چیز واضح نہیں ہوسکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close