حکومت منظور پشتین کو قید میں رکھنے کیلئے کوشاں

تین ہفتے پیشتر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے بچگانہ الزام پر گرفتار پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی سربراہ منظور پشتین کے ساتھ ریاستی زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے لئے قانون کی دھجیاں بکھیرتی چلی جارہی ہے۔
پشتون قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں منظور پشتین کو 27 جنوری کو پشاور میں شاہین ٹاؤن کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا موقف تھا کہ پشتین ڈیرہ غازی خان پولیس کو مطلوب تھے اور اسی بنا پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کو مختلف مواقع ہر دفعہ 144کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
28 جنوری کو پی ٹی ایم سربراہ کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو پشاور کی مقامی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر انہیں سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان بھیج دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کے خلاف ایف آئی آر ڈی آئی خان پولیس کے پاس درج ہونی ہے۔ تاہم 16 فروری تک منظور پشتین کی چھ ایف آئی آرز میں ضمانتیں مکمل ہوگئی تھیں اور تین ہفتے سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان میں گزارنے کے بعد 17 فروری کو بائیسویں روز پشتین کو عدالت سے رہائی کا پروانہ ملنے والا تھا۔ تاہم ریاستی اداروں نے ان کی رہائی روکنے کے لیے ان کے خلاف مزید دو ایف آئی آر عدالت کے روبرو پیش کر دیں اور یوں منظور پشتین کی رہائی ممکن نہ ہوسکی۔
اس حوالے سے ان کے وکیل اسد عزیز محسود کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں درج ایف آئی آر کی ضمانتیں 15 فروری کے روز ہوگئی تھیں جن کے ضمانت نامے بھی جمع ہوگئے تھے اور ریلیز آرڈر بھی سینٹرل جیل پہنچ چکے تھے۔ جبکہ پچھلے ہفتے ضلع ڈیرہ کی تحصیل پہاڑپور اور ضلع ٹانک کی عدالت میں بھی ضمانتیں منظور ہوگئیں تھیں لیکن فرد جائیداد لف کرتے وقت کوئی تکنیکی مسئلہ پیدا ہوگیا، جس سے قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوسکی اور یوں منظور پشتین کی رہائی نہیں ہو پائی تھی۔ لہٰذا 16 فروری کو تمام قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد منظور پشتین کی روبکار سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان کو جاری ہونی تھی لیکن اچانک مزید ایف آئی آرز سامنے آگئیں اور یوں ان کی رہائی کے راستے میں ایک بار پھر رکاوٹ ڈال دی گئی۔
خیال رہے کہ15 فروری کو پختون تحفظ موومنٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان رتہ کلاچی سٹیڈیم میں منظور پشتین کی رہائی کے لیے احتجاجی جلسے کا انعقاد بھی کیا تھا جس میں محسن داوڑ، علی وزیر، بشری گوہر، افراسیاب خٹک وغیرہ سمیت مختلف مقررین نے منظور پشتین سمیت تمام افراد کی رہائی پر زور دیتے ہوئے مبینہ ریاستی جبر کے خلاف ہر قانونی و آئینی حد تک جانے اور اپنے حقوق کے حصول تک اپنی کوششیں جاری رکھنے کا نہ صرف خود عہد کیا بلکہ مظاہرین سے پر امن احتجاجی جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیاتھا.
رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ منظور پشتین پر جتنے بھی کیس بنائے گئے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے عدلیہ سے خصوصی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کو پابند بنایا جائے کہ اس طرح کے جھوٹے کیس کسی پر بھی نہ بنائے جائیں۔ انہوں نے احتجاجی جلسہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے پی ٹی ایم اور منظور پشتین پر جتنے غداری کے مقدمات بنائے ہیں اتنے تو انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھی نہیں بنائے ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں کوئی ایسی قانون سازی لانے کی کوشش ہو گی جس سے کسی ریاستی ادا رےیا حکومت کی طرف سے سیاسی ورکر پربےبنیاد کیس بنا ئے جانے کی روک تھام ممکن ہو ۔
پی ٹی ایم کے سرگرم رہنما ورکن قومی اسمبلی علی وزیرنے بھی حکومت پر زور دیا کہ ان کے تمام نوجوانوں پر جتنی بھی جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں انہیں فی الفور ختم کیا جائے۔ پی ٹی ایم کور کمیٹی کے ممبر فدا محمد نے کہا کہ ان کے احتجاجی جلسہ میں بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی لیکن ایک طرف ہمیں ڈی سی آفس سے این او سی جاری کی گئی اور دوسری طرف دفعہ 144 بھی نافذ تھی۔
سماجی کارکن مینا گبینا کے مطابق پختون تحفظ موومنٹ کا کوئی ایسا غلط ایجنڈہ نہیں ہے۔ ریاست کو چاہیے ان لوگوں سے بات کرے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔ نہ کہ سچائی سے بھرپور سوال کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کرے اور ان پر دہشت گردی کے کیسز بنائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close