کورونا وائرس: ہلاکتوں کی تعداد 1868 ہوگئی،72 ہزار سے زائد متاثر

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1868 ہوگئی جبکہ ووہان ہسپتال کے ڈائریکٹر بھی وائرس سے چل بسے۔عالمی ادارہ صحت نے وبا کے پھیلاؤ سے تقریبات کی منسوخی، دہشت زدہ ہونا یا بحری جہاز کے حوالے سے تشویش کے بعد عالمی سطح پر بے جا رد عمل کے اظہار سے خبردار کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کےمطابق وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہوبئی میں مزید 93 افراد زندگی کی بازی ہارگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1868 ہوگئی ہےجبکہ ووہان کے اسپتال میں کورونا وائرس کا علاج کرنے والے اسپتال کے ڈائریکٹر بھی وائرس کا شکار ہوکر چل بسے۔
چینی حکام کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مزید 1886 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق ہوبئی سے ہے، نئے کیسز کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 72 ہزار 436 ہوگئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اب تک چین میں 72 ہزار سے زائد افراد چین میں اور چند سو چین کے باہر متاثر ہوچکے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے زور دیا ہے کہ اس وبا کے پھیلاؤ کے مرکز کے باہر عوام کا ‘تھوڑا حصہ’ وائرس کا شکار ہوا اور ہلاکتوں کی شرح اب بھی بہت کم ہے۔
وبا کے پھیلاؤ سے عالمی معیشت پر اثر پڑنے کے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں جبکہ چین کی معیشت قرنطینہ اقدامات کی وجہ سے مفلوج ہوگئی ہے اور آئی فون بنانے والے ایپل اور مائننگ کی سب سے بڑی کمپنی بی ایچ پی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ان کی بنیاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تجارتی تقاریب، کھیلوں کے مقابلے اور ثقافتی تقاریب بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں. متعدد ممالک نے چین سے آنے والے مسافروں پر پابندی عائد کردی ہے اور کئی بڑی ایئرلائنز نے چین کے لیے اپنی پرواز معطل کردی ہیں۔
جاپان میں بحری جہاز میں کئی سو افراد کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے کروز شپ کی صنعت اس وقت توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ کمبوڈیا میں ایک مسافر میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ تیدروز ادھانم نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘صورتحال کے مطابق اقدامات کیے جانے چاہیے، احاطہ کرنے والے اقدامات مددگار نہیں ہوسکتے ہیں’۔ انہوں نے وائرس کو روکنے کے لیے چین کے اقدامات کو سراہا۔ جاپان میں یوکوہاما میں قرنطینہ میں رکھے گئے ڈائمنڈ پرنس نامی بحری جہاز میں 450 سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔17 فروری کے روز امریکا نے جاپان سے 300 امریکیوں کو واپس بلالیا تھا جنہیں مزید 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ ویسٹر ڈیم بھی اس حوالے سے توجہ حاصل کر رہا ہے جہاں کمبوڈیا میں ایک بحری جہاز میں سوار 2 ہزار 200 مسافروں کو ابتدائی طور پر طبی جانچ پڑتال کے بعد جانے دیا گیا تھا۔ انہوں نے کمبوڈیا کے وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی، ایک بس میں ملک کے دارالحکومت کا دورہ بھی کیا اور انہیں دنیا بھر میں جانے کی اجازت مل گئی تھی۔
عالمی ادارہ صحت کی یقین دہانی کے باوجود عالمی تشویش برقرار ہے اور جنیوا میں عالمی تخلیق کے مظاہرے منسوخ کردئیے گئے ہیں جبکہ ہانگ کانگ اور سنگاپور میں دہشت پھیل رہی ہے۔ ایپل کے سپلائر فوکس کون اور کارساز ٹویوٹا کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے کیونکہ چین میں مرکزی پیداواری سہولت عارضی طور پر بند ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ وہ مارچ کے مہینے میں اپنے ریونیو کے ہدف تک نہیں پہنچ سکیں گے کیونکہ عالمی سطح پر آئی فون کی سپلائی ‘عارضی طور پر روک دی گئی ہے’ اور چین میں اس کی مانگ متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی بی ایچ پی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ذخائر کی مانگ کم ہوسکتی ہے کیونکہ اگر وائرس پھیلتا رہا تو تیل، کاپر اور اسٹیل کا استعمال کم ہوگا۔
علاوہ ازیں جاپان نے جلد کورونا وائرس کے علاج کے لیے تجرباتی بنیادوں پر ایچ آئی وی کا طریقہ علاج استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close