پاکستان میں افغان مہاجر طلبہ عدم تحفظ کا شکار

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 46 لاکھ افغان باشندے اپنے ملک سے باہر رہتے ہیں۔ ان میں سے صرف پاکستان میں رہنے والوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جن کی اس وقت تیسری نسل پاکستان میں بڑی ہو رہی ہے۔
پیر کو اسلام آباد میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں افغان شہریوں کی پاکستان آمد کی چار دہائیاں مکمل ہونے پر بحث کی گئی اور اس بارے میں بھی بات کی گئی کہ افغان پناہ گزینوں کو کس طرح بااختیار بنایا جائے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رہنے والے چند ایسے نوجوان جن کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد 40 سال پہلے بے سروسامانی کی حالت میں افغانستان سے پاکستان آئے تھے۔ ان میں ایک دیبہ عزیزی کہتی ہیں کہ میری پیدائش خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ہوئی ہے۔ بڑے ہوتے ہوئے میں خود کو افغان نہیں سمجھتی تھی۔ جب میری فیملی اسلام آباد آئی تو مجھے پانچ سال تک اسکول میں داخلہ نہیں ملا۔ سرکاری اسکول میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق کچھ پابندیاں تھیں کہ اگر آپ افغان ہیں تو کچھ کام آپ نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے اسکول دیر سے شروع کیا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اپنی شناخت کا پتا چلا۔ جب بھی دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ میں نے آج تک پاکستانیوں اور افغان لوگوں میں کوئی فرق نہیں دیکھا ہے۔ میری درخواست ہے کہ ہمیں دہشتگرد نہ سمجھا جائے، ہم دہشتگرد نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی خودکش حملہ ہوتا ہے تو شک کی نگاہ سے ہمیں کیوں دیکھا جاتا ہے؟، ہم وہ پناہ گزین ہیں جو اپنے ملک چلے جائیں گے جب ہمارے ملک میں امن آ جائے گا۔ ہم خواہش کرتے ہیں کہ افغانستان میں امن آ جائے تاکہ ہم اپنی زندگی وہاں جا کر آگے بڑھا سکیں۔

ایک اور طالب علم عبد الرحمٰن نے بتایا کہ میرا تعلق پشاور سے ہے اور میں اسلام آباد میں اپنی پڑھائی مکمل کر رہا ہوں۔ جب بھی کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو افغان پناہ گزین کا نام اس واقعے سے جوڑا جاتا ہے۔ ہم پر اس کا مختلف طریقے سے اثر ہوتا ہے۔ ایسے کسی بھی واقعے کے بعد جب ہم کالج یا اسکول جاتے ہیں تو ہمارے کلاس فیلوز ہمیں تعصب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایسے دیکھتے ہیں جیسے یہ دہشتگردی کا واقعہ ہم نے کیا ہو۔ اس کے علاوہ جب ہم کسی ادارے میں داخلہ لیتے ہیں اور شناختی کارڈ کے بجائے پناہ گزینوں کو جاری کیا گیا پی او آر کارڈ دکھاتے ہیں تو داخلہ دینے والوں کا رویہ بالکل بدل جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ پھر ویسے تعاون نہیں کیا جاتا جیسے کسی عام شہری کے ساتھ کیا جاتا ہو۔‘

طالب علم نعمت کا تعلق کوہاٹ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ پشتو زبان سے تضاد رکھتے ہیں۔ میں جب پشتو زبان میں بات کرتا ہوں تو مجھے فوراً گھُورا جاتا ہے۔ سارے لوگ تو ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اور ایسا کرنے والے بھی تنگ نظری کا شکار ہیں۔ لیکن میں اس بات سے انکار نہیں کروں گا کہ اپنی زبان میں بات کرنے سے پہلے اب مجھے سوچنا پڑتا ہے۔ خاص کر جب لوگوں کو یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ افغان ہے تو پھر ان کا رویہ مختلف ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ میرے بارے میں فوراً سے خیال بنا لیا جاتا ہے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔
ایک اور طالبہ صبیرہ خلیلی کہتی ہیں کہ میری پیدائش مہاجر کیمپ پشاور میں ہوئی ہے اور اب میں اسلام آباد میں ہاسٹل میں رہتی ہوں جبک ہ میری فیملی پشاور میں ہے۔ سچ یہی ہے کہ جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات صحیح ہوں گے تو ہمارے حالات بھی بہتر ہو جائیں گے۔ میری طرح کے اور لوگوں، خاص کرکے نئی نسل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی شناخت کھو دی ہے۔ ہم حکومت سے چاہتے ہیں کہ ہمیں ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق، دنیا بھر میں پناہ گزینوں کےلیے امداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے جب کہ افغانستان سے دنیا بھر اور خاص کر پاکستان میں پناہ لینے والے افغان پناہ گزینوں کےلیے بھی امداد میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
2016 میں پاکستان سے تقریباً چھ لاکھ افغان پناہ گزینوں کو افغانستان واپس بھیجا گیا تھا۔ اس عمل کو انسانی حقوق کے اداروں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کی بات کی تھی۔
جب کہ 2018 میں پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ حکومت افغان اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔
اس اعلان کا براہِ راست اثر پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ہونے والے رویے میں بدلاؤ لانے کی صورت میں دیکھا گیا اور خوب سراہا بھی گیا لیکن اس پر اب تک غور کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close