ڈان لیکس کے ملک دشمن ایجنڈے پر چلنا اب کیوں جائز ہے؟

عمران خان کی قیادت میں ایسا نیا پاکستان بن چکا ہے جہاں ماضی میں قومی مفاد کے نام پر روکے گئے اقدامات کو آج قومی مفاد کا نام دے کر بڑی گرمجوشی کے ساتھ سر انجام دیا جا رہا ہے۔ ڈان لیکس پر غضب ناک ہونے والے اب ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرکے دراصل ڈان لیکس پر ہی عملدرآمد کر رہے ہیں۔ مگر پھر بھی ہر دورمیں قومی مفاد کا چورن بیچنے والے نہ جانے کیوں شرمندہ نہیں ہوتے۔
آج سے کوئی ساڑھے تین سال قبل ڈان لیکس کے ذریعے یہ انکشاف ہوا تھا کہ نواز شریف حکومت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جہادی تنظیموں کی سرپرستی ختم کرے ورنہ پاکستان پر عالمی پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح کی باتیں لیک ہونے کا سخت غصہ آیا تھا کیونکہ تب جہادی تنظیموں کی سرپرستی قومی مفاد میں تھی مگر آج فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے کہنے پر تحریک انصاف حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ وہی کر رہی ہے جو ماضی میں نون لیگ کی حکومت کروانا چاہتی تھی مگر تب ایسا کرنا قومی مفاد کے خلاف تھا۔ آج ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیےجہادی تنظیموں کے قیادت کو نہ صرف سزائیں دی جارہی ہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی بنانے کے لئے فوج اور تحریک انصاف حکومت شانہ بشانہ چل رہی ہے۔
مسلم لیگ نون پنجاب کے صدراوررکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کی حکومت کو ڈان لیکس کی وجہ سے ملعون و مطعون کیا گیا مگرآج تحریک انصاف حکومت ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر وہی تمام اقدامات اٹھا رہی ہے جن کا مطالبہ چند سال قبل مسلم لیگ نون نے اسٹیبلشمنٹ سے کیا تھا۔
خیال رہے کہ ن لیگ کی قیادت کی جانب سے جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی پر شور مچانے والے مقتدر حلقوں نے ایسا کرنے کو قومی مفادات کے برعکس قرار دیا تھا حالانکہ یہ سچ تھا کہ جہادی تنظیموں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا تھا مگر نون لیگ کو ڈان لیکس کی پاداش میں اقتدار سے باہر کر دیا گیا۔ بعد ازاں حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ لسٹ میں شامل ہوا اور ملک میں تحریک انصاف کی حکومت آگئی جس کے بعد مقتدر حلقوں نے یوٹرن لیا اور ایک طرح سے ڈان لیکس پر عمل درآمد شروع کردیا۔
یہی نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کا ماؤتھ پیس سمجھے جانے والے وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد بھی حالیہ دنوں میں اعتراف کرچکے ہیں کہ میاں نواز شریف اور ان کی حکومت کو پانامہ سکینڈل کی بجائے ڈان لیکس کی وجہ سے اقتدار سے باہر کیا گیا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ بھی اس بات کا برملا اعتراف کرچکے ہیں کہ اگر تین سال قبل نواز شریف مقتدر حلقوں سے ٹکر نہ لیتے تو آج بھی ملک پر حکومت کررہے ہوتے۔
یاد رہے کہ 5 اکتوبر 2016 کے دن مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اعلی سطحی اجلاس میں لیگی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مابین گرما گرمی کی خبر ڈان اخبار میں چھپی تو اسے انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ اور فوجی قیادت نے ڈان لیکس کا نام دیا۔ ڈان سے وابستہ سینئر صحافی سرل المیڈا نے اپنی ایکسکلیوسیو سٹوری میں یہ بڑا انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ روز ہونے والے حکومتی اور فوجی قیادت کے اجلاس میں لیگی حکومت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان پر عالمی برادری کا بہت زیادہ دباؤ ہے اس لیے آپ نیشنل ایکشن پلان کے تحت جہادی تنظیموں کی سرپرستی ختم کریں ورنہ پاکستان پر عالمی پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔
اس خبر کے بعد ملکی سیاست میں بھونچال آگیا۔ اگلے ہی روز اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر وزیراعظم آفس کی جانب سے اس خبر کو من گھڑت اور قومی سلامتی کے منافی قرار دےکراظہار لاتعلقی کیا گیا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی چیف کے ہمراہ 10 اکتوبر کو وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کرکے اس خبر کے قومی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا۔ بعد میں میں سرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا اور جنرل راحیل شریف کے مطالبے پر حکومت نے المیڈا سے تفتیش کی کہ آخر یہ خبر ان کے پاس کہاں سے آئی۔ یہی نہیں بلکہ شدید دباؤ میں آکر ن لیگ نے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا اور ان کی چھٹی کروا دی گئی۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر طارق فاطمی کو بھی گھر بھجوا دیا گیا۔ مگر فوجی ترجمان کی جانب سے اس وقت ڈان لیکس سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈان لیکس میں جو باتیں باہر آئی تھیں وہ نہ صرف اس زمانے کا سچ تھا بلکہ آج کی بھی حقیقت ہے۔ بعض دانشور کہتے ہیں کہ قومی مفادات کچھ نہیں ہوتا کیونکہ حالات کے مطابق قومی مفاد بدلتا رہتا ہے جبکہ سچ نہیں بدلتا اور ہر طرح کے حالات میں سچ ہی رہتا ہے۔ ہمارا قومی سچ یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے کارروائیاں کرنے والی جہادی تنظیموں نے ملک کے امیج کو بے پناہ نقصان پہنچایا اور ان کے خلاف کارروائی ضروری تھی لیکن ماضی میں ان پر ہاتھ ڈالنا قومی مفاد کے خلاف تھا اور اب ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے انہیں دیوار سے لگانا عین قومی مفاد میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close